سینیئر سیاستدان اور سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ صرف کراچی نہیں بلکہ پورا پاکستان مسائل کا شکار ہے اور ملک میں گورننس کی بہتری، عوامی مسائل کے حل اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے لیے فوری طور پر بلدیاتی انتخابات کرانا ناگزیر ہیں۔
’وی نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جب تک مقامی حکومتوں کو بااختیار نہیں بنایا جائے گا، نہ تعلیم، نہ صحت، نہ پولیسنگ اور نہ ہی بنیادی شہری سہولیات میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد اور خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات، الیکشن کمیشن نے اہم ہدایات جاری کردیں
مفتاح اسماعیل نے کہاکہ ان کی جماعت ’عوام پاکستان‘ آئندہ بلدیاتی انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی اور ملک بھر میں عوام تک اپنا پیغام پہنچائے گی۔
’ایران امریکا کشیدگی سے پاکستان کی معیشت متاثر ہوگی‘
سابق وزیر خزانہ نے کہاکہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھیں گی، جس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوں گے۔
انہوں نے کہاکہ اگر یہ جنگ مزید طول پکڑتی ہے تو آئندہ چند ہفتوں میں پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہو سکتی ہیں، جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ حالیہ پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ عالمی منڈی نہیں بلکہ حکومت کی جانب سے ٹیکسوں اور ایکسچینج ریٹ میں ردوبدل تھا۔
’پیٹرول پر ٹیکس غریب عوام پر بوجھ ہے‘
سابق وزیر خزانہ نے کہاکہ اس وقت پیٹرول پر قریباً 105 روپے جبکہ ڈیزل پر قریباً 100 روپے مختلف ٹیکسوں کی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ حکومت کے لیے سب سے آسان ٹیکس وہ ہے جو موٹر سائیکل چلانے والے عام آدمی پر لگایا جائے، جبکہ بڑے زمینداروں، رئیل اسٹیٹ سیکٹر، بڑے تاجروں اور طاقتور طبقوں پر مؤثر ٹیکس عائد نہیں کیا جاتا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت اگر اپنے اخراجات کم کرے تو عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بھی کم کیا جا سکتا ہے۔
’بی آئی ایس پی ختم کرنے کے بجائے اشرافیہ کی سبسڈیز ختم کی جائیں‘
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پر تنقید کے حوالے سے سوال کے جواب میں مفتاح اسماعیل نے کہاکہ حکومت کو غریب خواتین کو دی جانے والی معمولی مالی امداد بند کرنے کے بجائے پہلے بڑے صنعتی گروپوں، فرٹیلائزر ملز، شوگر ملز اور دیگر مراعات یافتہ طبقوں کو دی جانے والی سبسڈیز ختم کرنی چاہییں۔
انہوں نے کہاکہ اگر کسی غریب خاتون کو چند ہزار روپے ماہانہ مل رہے ہیں تو اس پر اعتراض کرنے کے بجائے اصل توجہ اربوں روپے کی مراعات حاصل کرنے والے طبقے پر ہونی چاہیے۔
البتہ انہوں نے تسلیم کیاکہ بی آئی ایس پی میں شفافیت مزید بہتر بنانے اور غیر مستحق افراد کو نکالنے کی ضرورت ہے۔
’حکومت کی معاشی کارکردگی اعداد و شمار کے مطابق بہتر نہیں‘
مفتاح اسماعیل نے کہاکہ گزشتہ 4 برسوں کے دوران پاکستان کی فی کس آمدنی میں کمی آئی، مہنگائی میں قریباً 78 فیصد اضافہ ہوا، سرمایہ کاری کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی جبکہ برآمدات میں بھی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔
انہوں نے کہاکہ بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہوا ہے اور معیشت مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔
’عوام پاکستان بلدیاتی انتخابات سے سیاسی سفر شروع کرے گی‘
انہوں نے کہاکہ عوام پاکستان پارٹی نے ابتدائی طور پر کنٹونمنٹ بورڈ انتخابات کی تیاری کی تھی، تاہم انتخابات نہ ہونے کے باعث اب بلدیاتی انتخابات سے اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ جماعت میں شاہد خاقان عباسی، ڈاکٹر ظفر مرزا، ڈاکٹر طارق بنوری سمیت سابق سفارت کار اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت اور دیانتدار افراد شامل ہیں۔
’ملک میں اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں‘
مفتاح اسماعیل نے کہاکہ ان کی جماعت کے بنیادی اصولوں میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو فیصلے مقامی سطح پر ہو سکتے ہیں، انہیں صوبائی یا وفاقی سطح پر نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق جب تک بااختیار بلدیاتی نظام قائم نہیں ہوگا، پاکستان میں تعلیم، صحت، پولیس، انفراسٹرکچر اور عوامی خدمات بہتر نہیں ہو سکتیں۔
سیاسی جماعتیں بلدیاتی انتخابات سے کیوں گھبراتی ہیں؟
انہوں نے کہاکہ پاکستان کی تینوں بڑی جماعتیں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف عملی طور پر اختیارات اپنے پاس رکھنا چاہتی ہیں، اسی لیے کوئی بھی مقامی حکومتوں کو حقیقی اختیارات دینے پر آمادہ نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ براہ راست منتخب میئرز، ضلع اور تحصیل ناظمین کا نظام متعارف کرایا جائے تاکہ نئی قیادت سامنے آئے اور چند خاندانوں تک سیاست محدود نہ رہے۔
’کراچی نہیں، پورا پاکستان مسائل کا شکار ہے‘
کراچی کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہاکہ دنیا کے قابل رہائش شہروں کی حالیہ عالمی درجہ بندی میں کراچی 173 میں سے 170 ویں نمبر پر آیا، جس سے شہر کی موجودہ صورتحال واضح ہوتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ کراچی کے مسائل کی وجہ صرف ایک نہیں بلکہ کرپشن، نااہلی، بے حسی اور ناقص حکمرانی ہے۔
تاہم انہوں نے زور دیتے ہوئے کہاکہ صرف کراچی ہی نہیں بلکہ سندھ کے دیہی علاقوں سمیت پورا پاکستان بنیادی مسائل سے دوچار ہے۔
انہوں نے کہاکہ کراچی کا ذکر اس لیے زیادہ ہوتا ہے کیونکہ وہاں قومی میڈیا موجود ہے، لیکن دیہی سندھ، بلوچستان، جنوبی پنجاب اور دیگر علاقوں کی صورتحال بھی انتہائی خراب ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان کی جماعت پورے پاکستان کے غریب عوام کا اتحاد قائم کرنا چاہتی ہے تاکہ طبقاتی سیاست کے بجائے عوامی مسائل پر توجہ دی جا سکے۔
گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے انتخابات میں حصہ نہ لینے کی وجہ
مفتاح اسماعیل نے کہاکہ عوام پاکستان پارٹی گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بروقت رجسٹر نہ ہونے کی وجہ سے وہاں انتخابات میں حصہ نہیں لے سکی، تاہم آئندہ انتخابات میں جماعت بھرپور شرکت کرے گی۔
’بلوچستان اور آزاد کشمیر کے مسائل کا حل سیاسی مکالمہ ہے‘
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے ریاست کو مؤثر کارروائی کرنا ہوگی، تاہم بلوچستان میں مسئلے کا مستقل حل سیاسی مکالمے، مقامی قیادت کو اختیار دینے اور بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے میں ہے۔
آزاد کشمیر کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ کشمیری عوام پاکستان کے ساتھ ہیں اور وہاں پیدا ہونے والے مسائل کا حل بھی سیاسی مذاکرات اور عوامی اعتماد بحال کرنے میں ہے۔
’پنجاب حکومت پر تنقید‘
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہاکہ پنجاب حکومت نے انفراسٹرکچر اور صفائی کے شعبے میں کچھ کام ضرور کیا ہے، تاہم صحت، تعلیم اور پولیسنگ جیسے بنیادی شعبوں میں کارکردگی اطمینان بخش نہیں۔
مزید پڑھیں: اچھے معاشی دن دور دور تک نظر نہیں آتے، مفتاح اسماعیل
انہوں نے کہاکہ لاہور پر غیر متناسب وسائل خرچ کیے جا رہے ہیں جبکہ جنوبی اور مغربی پنجاب کے اضلاع ترقیاتی فنڈز سے محروم ہیں۔ ان کے مطابق حکومت تشہیر پر زیادہ توجہ دے رہی ہے جبکہ بنیادی شعبوں میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔













