کراچی میں ڈاکٹر کے قتل کا معمہ حل، سی سی ٹی وی کی مدد سے 3 ملزمان گرفتار

بدھ 15 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی کے علاقے کلفٹن میں تین تلوار کے قریب ڈکیتی کے دوران نوجوان ڈاکٹر آکاش کمار کے قتل کے مقدمے میں پولیس نے 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

جبکہ ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ واردات میں بینک کے ایک اندرونی سہولت کار نے بھی اہم کردار ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں خونی ڈمپرز اور ٹینکرز کا راج جاری، پہیوں تلے کچلے جانے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ

ساؤتھ زون پولیس کے مطابق ڈاکٹر آکاش، جو جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں ہاؤس آفیسر تھے، پیر کے روز ایک نجی بینک سے بڑی رقم نکلوا کر اپنے والد اور کزن کے ہمراہ دوسری بینک برانچ جا رہے تھے۔

اسی دوران تین تلوار کے قریب 2 موٹر سائیکلوں پر سوار 4 مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو روک لیا۔

ایک ملزم نے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھول کر ڈاکٹر آکاش پر فائرنگ کر دی، جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے اور بعد ازاں اسپتال میں دم توڑ گئے۔ ملزمان نقد رقم لوٹ کر فرار ہوگئے۔

پولیس کے مطابق منگل کی شب ڈیفنس کے علاقے میں مشکوک گاڑی کی اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے 3 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

ان کے قبضے سے 3 پستول، موبائل فونز اور جعلی نمبر پلیٹ لگی سفید سوزوکی آلٹو بھی برآمد کی گئی، جسے واردات کے بعد فرار ہونے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: کراچی: 6 سالہ بچہ مبینہ زیادتی  کے بعد قتل، 20 سالہ پڑوسی گرفتار

ابتدائی تفتیش میں گرفتار ملزمان نے اعتراف کیا کہ انہوں نے واردات سے قبل ڈاکٹر آکاش کی نگرانی کی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بینک کے ایک اندرونی شخص نے ملزمان کو اطلاع دی تھی کہ ڈاکٹر آکاش نے بھاری رقم نکلوائی ہے، ساتھ ہی ان کی شناخت اور رقم کی تفصیلات بھی فراہم کی گئیں، جس کے بعد ملزمان نے ان کا تعاقب کرتے ہوئے دوسری بینک برانچ کے قریب واردات کی۔

ساؤتھ زون کے ڈی آئی جی اسد رضا نے بتایا کہ مختلف علاقوں میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی 100 سے زائد ویڈیوز کا جائزہ لینے کے بعد ملزمان کی شناخت ممکن ہوئی۔

مزید پڑھیں: کراچی: 6 سالہ بچہ مبینہ زیادتی  کے بعد قتل، 20 سالہ پڑوسی گرفتار

گرفتار ملزمان کی شناخت سریش، رام چند اور انیل کے نام سے ہوئی ہے۔

پولیس کے مطابق ایک ملزم حال ہی میں ضمانت پر رہا ہوا تھا، دوسرا ایک مقدمے میں زیر سماعت تھا جبکہ تیسرا اشتہاری تھا۔

تینوں کا تعلق کراچی میں سرگرم ایک جرائم پیشہ گروہ سے ہے اور ان کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: مرید عباس قتل کیس کا 7 سال بعد فیصلہ، مرکزی ملزم عاطف زمان کو 2 بار سزائے موت

پولیس نے ذاتی دشمنی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ محض ڈکیتی کی واردات تھا۔

دوسری جانب سی آئی اے کے ڈی آئی جی مقدس حیدر نے دعویٰ کیا کہ رواں سال کراچی میں ڈکیتی کے دوران قتل اور زخمی کرنے کے واقعات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں کمی آئی ہے، تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ اسٹریٹ کرائم اب بھی شہر کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp