ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ایسے چیٹ بوٹس جو مرحوم عزیزوں کی معلومات کی بنیاد پر تیار کیے جائیں بعض افراد کے لیے غم سے نمٹنے اور جذباتی سکون حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی چیٹ بوٹ ’اپنی والدہ‘ کو یاد کرکے جذباتی، صارفین دنگ
یہ تحقیق یونیورسٹی آف کولوراڈو بولڈر کے محققین نے کی جس کے نتائج 2026 ڈیزائننگ اِنٹریکٹو سسٹمز کانفرنس کی کارروائی میں شائع کیے گئے ہیں۔ محققین کے مطابق یہ ’جنریٹو گھوسٹس‘ (یعنی مرحوم افراد کی مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیجیٹل نقل) کہلانے والی ٹیکنالوجی کے عملی تجربات پر پہلی تفصیلی تحقیق ہے۔
تحقیق کے دوران ایسے 16 افراد کو شامل کیا گیا جنہوں نے اپنی زندگی میں کسی قریبی عزیز کو کھو دیا تھا۔ تمام شرکا نے زوم پر خصوصی نشستوں میں حصہ لیا جہاں انہوں نے اپنے مرحوم عزیزوں کی معلومات، پیغامات اور دیگر دستیاب تفصیلات کی بنیاد پر تیار کیے گئے اے آئی چیٹ بوٹس سے گفتگو کی۔
تحقیق کے مطابق تمام 16 شرکا نے کہا کہ اگر انہیں دوبارہ یہ تجربہ کرنے کا موقع ملا تو وہ ضرور ایسا کریں گے۔
اس تحقیق کی قیادت انفارمیشن سائنس میں پی ایچ ڈی کے طالب علم جیک میننگ نے کی جبکہ ان کے ساتھ اسی شعبے کے ایسوسی ایٹ پروفیسر جیڈ بروبیکر بھی شریکِ تحقیق تھے۔
مزید پڑھیے: روبوٹس کے لیے اجرت طے کرنے کی تجویز، آخر یہ معاملہ کیا ہے؟
محققین نے ہر مرحوم شخصیت کے دو مختلف چیٹ بوٹس تیار کیے۔ ایک چیٹ بوٹ ایسا تھا جو خود مرحوم شخص کی طرح فرسٹ پرسن (یعنی ’میں‘) میں بات کرتا تھا جبکہ دوسرا تھرڈ پرسن (یعنی ’وہ‘) کے انداز میں مرحوم کا ذکر کرتا تھا۔
تحقیق میں شامل افراد نے واضح طور پر فرسٹ پرسن والے انداز میں گفتگو کرنے والے چیٹ بوٹ کو زیادہ پسند کیا۔ محققین نے اس انداز کو ’ری اِنکارنیشن‘ جبکہ دوسرے انداز کو ’ریپریزنٹیشن‘ کا نام دیا۔
یعنی محققین نے فرسٹ پرسن والے انداز میں بات کرنے والے اس انداز کو ’مرحوم کی آواز اور انداز میں گفتگو‘ جبکہ دوسرے انداز کو ’مرحوم کے بارے میں گفتگو‘ قرار دیا۔
مزید پڑھیں: کیا مصنوعی ذہانت کبھی حقیقی شعور حاصل کر سکتی ہے، جواب جاننے کے لیے گوگل کا اہم اقدام
تحقیق میں شامل 32 سالہ ایک خاتون جنہوں نے اپنی مرحوم دادی پر مبنی چیٹ بوٹ سے گفتگو کی نے بتایا کہ یہ تجربہ ان کے لیے انتہائی حقیقی محسوس ہوا۔
انہوں نے محققین کو بتایا کہ مجھے ایسا لگا جیسے میں انہیں دیکھ سکتی ہوں اور انہیں محسوس کر سکتی ہوں۔ ان کے مطابق اس تجربے نے انہیں وہ جذباتی اطمینان فراہم کیا جس کی وہ طویل عرصے سے تلاش میں تھیں۔
تحقیق کے دوران ایک دلچسپ بات یہ بھی سامنے آئی کہ شرکا نے چیٹ بوٹس کی بعض حقائق سے متعلق غلطیوں کو تو آسانی سے نظر انداز کر دیا لیکن زبان اور انداز گفتگو میں معمولی غلطیوں کو قبول نہیں کیا۔
مثال کے طور پر ایک چیٹ بوٹ نے ایک شخص کے مرحوم سوتیلے والد کے لیے ’چیمپ‘ کا لفظ استعمال کیا حالانکہ وہ حقیقی زندگی میں کبھی یہ لقب استعمال نہیں کرتے تھے۔ محققین کے مطابق اس ایک لفظ نے تقریباً پورے تجربے کو ناکام بنا دیا کیونکہ شرکا نے فوراً اسے غیر حقیقی محسوس کیا۔
یہ بھی پڑھیے: بچے اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں، بیشتر والدین بے خبر
تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صارفین نے طویل پیراگراف کے بجائے مختصر، سادہ اور ایموجیز سے بھرپور جوابات کو زیادہ پسند کیا۔ محققین کا کہنا ہے کہ ایسے چیٹ بوٹس میں جذباتی حقیقت پسندی کا تعلق مکمل معلوماتی درستگی سے زیادہ الفاظ کے انتخاب، اندازِ گفتگو اور ردِعمل کے طریقے سے ہوتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سیانس اے آئی اور پروجیکٹ ڈسمبر جیسی کمپنیاں پہلے ہی مرحوم افراد کی ڈائریوں، پیغامات اور سوشل میڈیا پوسٹس کی بنیاد پر اس نوعیت کی خدمات فراہم کر رہی ہیں۔
ایسوسی ایٹ پروفیسر جیڈ بروبیکر کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیقی ٹیم نے یہ تحقیق اس لیے شروع کی کیونکہ یہ ٹیکنالوجی تیزی سے عام ہو رہی تھی لیکن اس کے نفسیاتی اثرات کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب تھیں۔
دوسری جانب تحقیق کے مرکزی مصنف جیک میننگ جنہوں نے بچپن میں اپنی بہن کو کھو دیا تھا کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی اس ٹیکنالوجی کے غیر محدود استعمال پر مکمل اعتماد نہیں کرتے خاص طور پر ایسے حساس افراد کے لیے جو کسی مرحوم عزیز کی مصنوعی ذہانت پر مبنی نقل سے بغیر کسی رہنمائی یا حفاظتی ضابطوں کے روبرو ہوں۔
مزید پڑھیں: کیا اے آئی کھلونے بچوں کے جذبات سمجھ سکتے ہیں؟
انہوں نے خبردار کیا کہ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی بعض لوگوں کے لیے غم کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے تاہم اس کے استعمال میں احتیاط اور مناسب نگرانی ضروری ہے تاکہ اس کے ممکنہ نفسیاتی اثرات سے محفوظ رہا جا سکے۔














