برطانیہ کے شاہی خاندان کی رکن شہزادی این نے جنوبی کوریا کے دورے کے دوران ایک جدید ہیومنائیڈ روبوٹ کا مشاہدہ کیا جہاں انہوں نے روبوٹ کی مختلف انسانی صلاحیتیں دیکھنے کے بعد ایک دلچسپ سوال بھی کر ڈالا۔
یہ بھی پڑھیں: اسکاٹ لینڈ میں شاہ چارلس کے نئے پورٹریٹ کی نقاب کشائی، ہمشیرہ شہزادی این جذباتی ہو گئیں
شہزادی این اور ان کے شوہر سر ٹِم لارنس نے جنوبی کوریا کی اسمارٹ موبیلیٹی لیبارٹری کا دورہ کیا جہاں انہیں دوڑنے، انسانوں کی حرکات کی نقل کرنے اور دیگر جدید صلاحیتوں سے لیس ہیومنائیڈ روبوٹ، ڈوئل آرم روبوٹ اور موشن کیپچر سسٹم کا عملی مظاہرہ دکھایا گیا۔

دورے کی ویڈیو شاہی خاندان کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی جس میں روبوٹ کو شہزادی این سے مصافحہ کرتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
ویڈیو کے ساتھ شاہی خاندان نے مزاحیہ انداز میں کیپشن لکھا کہ ’جی ہاں لیکن کیا یہ تعظیماً جھک بھی سکتا ہے؟‘ ساتھ ہی آنکھ مارنے والا ایموجی بھی شامل کیا گیا۔
مزید پڑھیے: حقیقی زندگی میں طلسماتی کہانی جیسا سماں باندھتی مشہور شاہی شادیاں
یہ جملہ برطانوی شاہی روایت کی طرف اشارہ تھا جس کے تحت شاہی خاندان کے افراد کے احترام میں لوگ کرٹسی (خواتین کا تعظیماً گھٹنوں کو ہلکا سا موڑ کر جھکنا) یا جھک کر سلام کرتے ہیں۔
بکنگھم پیلس کے بیان کے مطابق شہزادی این اور سر ٹِم لارنس نے جنوبی کوریا میں اسمارٹ موبیلیٹی لیبارٹری کا دورہ کیا جہاں انہیں ہیومنائیڈ روبوٹ، ڈوئل آرم روبوٹ اور موشن کیپچر سسٹم کی جدید ٹیکنالوجی سے آگاہ کیا گیا۔
مزید پڑھیں: برطانوی بادشاہ چارلس نے 800 سالہ قدیم شاہی روایت توڑ دی، وجہ کیا تھی؟
بیان میں مزید بتایا گیا کہ کوریا یونیورسٹی اور یونیورسٹی کالج لندن نے سنہ 2023 میں سائنسی تعاون کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے جس کے تحت دونوں جامعات مشترکہ فنڈ کے ذریعے سائنسی تحقیقاتی منصوبوں کی معاونت کر رہی ہیں۔













