اسلام آباد ہائیکورٹ نے موٹر وے پر ’ایم ٹیگ‘ میں ناکافی بیلنس والے مسافروں پر 50 فیصد اضافی ٹول ٹیکس عائد کرنے کے حکومتی نوٹیفکیشن کو چیلنج کرنے والی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔
عدالت میں درخواست اور دلائل
چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے ’جوڈیشل ایکٹیوزم پینل‘ کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد ہائیکورٹ نے بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں سے اضافی ٹول وصولی روک دی
درخواست گزار کے وکیل محفوظ بخاری نے مؤقف اختیار کیا کہ 3 جون 2025 کو جاری کیا گیا نوٹیفکیشن غیر منصفانہ، بلا جواز اور عوام پر اضافی بوجھ ہے۔
انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ مذکورہ فیصلہ غیر معقول اور امتیازی ہونے کی بنا پر کالعدم قرار دیا جائے۔
عدالتی مشاہدہ اور قانونی بحث
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ معاملہ حکومت کی پالیسی کا حصہ معلوم ہوتا ہے اور ایسے پالیسی فیصلوں میں عدالت کس حد تک مداخلت کر سکتی ہے؟
اس پر وکیلِ صفائی نے دلائل دیے کہ قانون کے مطابق اگر کوئی بھی حکومتی پالیسی غیر منصفانہ، امتیازی یا قانون کی خلاف ورزی پر مبنی ہو تو وہ عدالتی نظرثانی کے دائرہ کار میں آتی ہے۔
مزید پڑھیں:موٹرسائیکلوں پر ایم ٹیگ لگانے کے معاملے میں شہریوں کو ہراساں نہ کیا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ
انہوں نے مزید کہا کہ بیلنس کی کمی پر اضافی ٹول ٹیکس کا فیصلہ کسی معقول بنیاد کے بغیر کیا گیا ہے۔
کیس کا اگلا مرحلہ
ابتدائی دلائل سننے کے بعد عدالت نے وزارت مواصلات سمیت دیگر متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں اور انہیں ہدایت کی ہے کہ وہ اس معاملے پر اپنا جواب جمع کروائیں۔












