بھارت میں گزشتہ 18 ماہ کے دوران اسرائیلی ٹیکنالوجی پر مبنی درشتی 10 اسٹار لائنر نگرانی ڈرون دوسری بار حادثے کا شکار ہو گیا جس کے بعد بھارتی بحریہ نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ مسلسل پیش آنے والے ان حادثات نے ڈرون کی قابل اعتماد کارکردگی پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کڈن کلم جوہری پلانٹ سے منسلک تقریباً 19 ہزار فائلیں لیک، بھارتی سائبر سیکیورٹی پر سنگین سوالات اٹھ گئے
بھارتی میڈیا کے مطابق ڈرون رواں ماہ گجرات کے شہر پوربندر میں بحریہ کے فضائی اڈے سے معمول کی تربیتی پرواز کے لیے اڑان بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد گر کر تباہ ہو گیا۔
ڈرون دھرم پور گاؤں کے قریب ایک کھلے میدان میں گرا جو ساحلی شہر پوربندر سے تقریباً 6 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
بھارتی بحریہ نے کہا ہے کہ حادثے میں کسی جانی نقصان یا شہری کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
بحریہ کے مطابق حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقاتی بورڈ قائم کر دیا گیا ہے جو اس بات کا جائزہ لے گا کہ آیا حادثہ کسی تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا یا ڈرون کا رابطہ منقطع ہونے کی وجہ سے۔
مزید پڑھیے: بھارتی مسافروں کا انوکھا کارنامہ، ٹرینوں سے کروڑوں مالیت کی چادریں اور تولیے چرانے لگے
یہ حادثہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب بھارتی بحریہ بحرِ ہند کے خطے میں نگرانی کی صلاحیت بڑھانے کے لیے مزید 10 درشتی 10 ڈرون خریدنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
درشتی 10 ڈرون بھارت میں اڈانی ڈیفنس اینڈ ایرو اسپیس اسرائیلی کمپنی ایلبٹ سسٹمز کے لائسنس کے تحت تیار کرتی ہے۔ یہ دراصل اسرائیل کے ہرمیز 900 درمیانی بلندی پر طویل دورانیے تک پرواز کرنے والے نگرانی ڈرون کا بھارتی ورژن ہے۔
اس سے قبل جنوری 2025 میں بھی پوربندر کے قریب ایک درشتی-10 ڈرون قبل از قبولیت آزمائشی پرواز کے دوران بحیرہ عرب میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس وقت بھی ڈرون کا مواصلاتی رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔
مزید پڑھیں: تباہی کا سلسلہ جاری، بھارتی فضائیہ کا ایک اور طیارہ گر گیا
درشتی 10 ڈرون مسلسل 36 گھنٹے تک پرواز کرنے، 450 کلوگرام تک وزن اٹھانے اور 30 ہزار فٹ کی بلندی پر آپریشن کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔













