فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل سے قبل نیویارک کے بروکلین میں واقع عرب اکثریتی علاقے لٹل فلسطین (Bay Ridge) میں بڑی تعداد میں عرب اور فلسطینی نژاد امریکی شائقین اسپین کی حمایت کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسپین کی فلسطینی ریاست کی حمایت اور غزہ سے متعلق مؤقف نے انہیں اس ٹیم کی پشت پناہی پر آمادہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں:فیفا کے سنہرے جوتوں کی الف لیلیٰ
72 سالہ زین ریماؤی، جو عرب امریکن فیڈریشن کے چیئرمین ہیں، نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ فٹبال کو سیاست سے الگ نہیں کیا جا سکتا اور وہ ان ممالک کی حمایت کرتے ہیں جو فلسطینی عوام کے حق میں کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کے بقول اسپین کی حکومت نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا اور غزہ کی جنگ پر بھی واضح مؤقف اختیار کیا، اسی لیے وہ ورلڈ کپ کے فائنل میں اسپین کے حامی ہیں۔
بے رج (Bay Ridge) کے فلسطینی، یمنی اور لبنانی ریستورانوں، کیفوں اور دکانوں پر ورلڈ کپ میں شریک ٹیموں کے جھنڈے آویزاں ہیں، جبکہ علاقے میں فلسطینی ثقافت کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔
🇪🇸 Spain fans gathering in Times Square ahead of the 2026 FIFA World Cup Final. 🔥
The atmosphere is already building before the showdown with Argentina. 🏆 pic.twitter.com/AjQpokLZHL
— 90 Plus (@90PlusHQ) July 18, 2026
مقامی بیکری کے مالک طلال نے کہا کہ عرب دنیا اور اسپین کے تاریخی و ثقافتی روابط بھی اس حمایت کی ایک وجہ ہیں۔ ان کے مطابق اگر اسپین کے مقابلے میں کوئی بھی غیر عرب ٹیم ہوتی تو وہ پھر بھی اسپین کی حمایت کرتے۔
ایک اور فلسطینی نژاد کاروباری شخصیت محمود قاسم نے بتایا کہ انہوں نے عرب ٹیموں کے میچوں کے دوران اپنی بیکری کے باہر بڑی اسکرین لگا کر شائقین کے لیے مفت فلافل کا انتظام کیا تاکہ مختلف عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد ایک جگہ جمع ہو کر اپنی ٹیموں کی حوصلہ افزائی کر سکیں۔
مزید پڑھیں:میسی کے گول سے 45 برس بعد کھلنے والا سفارتخانہ
رپورٹ کے مطابق کمیونٹی کے تمام افراد اسپین کے حامی نہیں۔ بعض عرب نژاد امریکی فٹبال شائقین لیونل میسی کی غیر معمولی صلاحیتوں کی وجہ سے ارجنٹینا کی حمایت بھی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کھیل کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رہنا چاہیے اور ارجنٹائن کی ٹیم کو حکومتی پالیسیوں سے الگ دیکھنا چاہیے۔












