چین کے شہر شنگھائی میں جاری ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس 2026 میں جدید ہیومنائیڈ روبوٹس، مصنوعی ذہانت سے چلنے والے اسمارٹ آلات اور مستقبل کی جدید ٹیکنالوجی نے شرکا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔ کانفرنس میں صنعتی، تجارتی اور روزمرہ زندگی کے لیے تیار کی گئی جدید اے آئی مصنوعات کی نمائش کی جا رہی ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق ورلڈ اے آئی کانفرنس اور گلوبل اے آئی گورننس پر اعلیٰ سطحی اجلاس جمعہ سے پیر تک شنگھائی میں جاری ہے، جہاں دنیا بھر کی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے اپنی جدید اختراعات پیش کی ہیں۔
China's XPeng is preparing to enter mass production of humanoid robots.
The EV maker plans to produce over 1,000 Iron humanoid robots per month by the end of 2026, with a global commercial launch scheduled for 2027, marking another major step in China's push to expand AI and…
— China pulse 🇨🇳 (@Eng_china5) July 18, 2026
نمائش میں ہیومنائیڈ روبوٹس، اے آئی سے چلنے والے روبوٹک ہاتھ، اسمارٹ ڈیوائسز، ثقافتی و تفریحی تجربات اور جدید مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی خصوصی توجہ کا مرکز ہیں۔
کانفرنس میں ایسے روبوٹس بھی پیش کیے گئے جو فٹبال کھیلنے، ٹیبل ٹینس کھیلنے، غباروں سے کھلونے بنانے، روایتی چائے پیش کرنے، اشیا کی درجہ بندی کرنے اور مختلف صنعتی و گھریلو کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سیاروں کی سطح کا جائزہ لینے کے لیے ربوٹک ڈاگ کی تربیت کا آغاز
شرکا کی دلچسپی کا مرکز ’شیا لان‘ نامی ایک ہیومنائیڈ روبوٹ بھی رہا، جسے انسانی جلد، پلکیں جھپکانے والی آنکھوں اور نرم لہجے میں گفتگو کرنے کی صلاحیت سے آراستہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ’روبوٹ رضاکار‘ اور ’ساتھی روبوٹس‘ نے بھی نمائش میں آنے والوں کی توجہ حاصل کی۔
منتظمین کے مطابق چین میں رواں سال ہیومنائیڈ روبوٹس کی سالانہ پیداوار ایک لاکھ یونٹس سے تجاوز کرنے کی توقع ہے، جو مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے شعبے میں ملک کی تیز رفتار ترقی کی عکاسی کرتی ہے۔
At the 2026 World #AI Conference in Shanghai, a unique robot featuring a doll-like head drew a crowd of onlookers who stopped to take photos. pic.twitter.com/sFCLfO8YiS
— Global Times (@globaltimesnews) July 17, 2026
ماہرین کا کہنا ہے کہ کانفرنس میں پیش کی جانے والی جدید ٹیکنالوجیز مستقبل میں صنعت، صحت، تعلیم، خدمات اور روزمرہ زندگی میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کردار کی واضح جھلک پیش کرتی ہیں۔














