بھارتی سماجی کارکن اور ماہرِ تعلیم سونم وانگچک نے مبینہ طور پر غیرقانونی حراست میں ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی جانب مجوزہ مارچ کو کامیاب بنانے کی اپیل کی ہے، جبکہ ان کی اہلیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ کل پارلیمنٹ کے مون سون اجلاس کے آغاز پر احتجاجی مارچ کی قیادت کریں گی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے صفدر جنگ اسپتال سے اپنے ہاتھ سے تحریر کردہ پیغام میں کہا ہے کہ وہ 3 ہفتوں سے جاری بھوک ہڑتال کے باوجود اپنے مطالبات پر قائم ہیں۔ انہوں نے اپنے پیغام میں احتجاج کو ’بھارت کی دوسری آزادی کی تحریک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک جیسے ناانصافیوں اور خوف کی فضا سے نجات حاصل کرنا ہے۔
Sonam Wangchuk's Message from Illegal Detention by Modi Govt. 🔥💯
20th July
आजादी का दूसरा आंदोलन
भय मुक्त भारत, अन्याय मुक्त भारत 🇮🇳 pic.twitter.com/SlKSrmGxWo— राहुल तंवर (@RahulTavar_) July 19, 2026
وانگچک نے اپنے حامیوں سے اپیل کی کہ پارلیمنٹ کی جانب ہونے والے مارچ کو بھرپور کامیاب بنایا جائے۔ انہوں نے اپنے پیغام کے اختتام پر لکھا کہ یہ نوٹ صفدر جنگ اسپتال میں اپنی ’غیرقانونی حراست‘ سے اہلیہ گیتانجلی جے انگمو کے ذریعے بھیج رہے ہیں۔
بھارتی پولیس نے 18 جولائی کو، بھوک ہڑتال کے 21ویں روز، وانگچک کو نئی دہلی کے جنتر منتر سے منتقل کرکے صفدر جنگ اسپتال میں داخل کر دیا تھا۔ یہ اقدام دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے حکومت کو وانگچک کی جان بچانے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کے بعد کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک بھوک ہڑتال کے باعث کمزور، زبردستی اسپتال منتقل
دوسری جانب، وانگچک کی اہلیہ نے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سرکاری اسپتال میں علاج کے حوالے سے شفافیت نہیں برتی جا رہی، لہٰذا انہیں کسی نجی اسپتال منتقل کرنے کی اجازت دی جائے۔
واضح رہے کہ سونم وانگچک مبینہ نیٹ (NEET) امتحانی پرچہ لیک کے خلاف احتجاجی تحریک میں پیش پیش ہیں اور تعلیمی نظام میں شفافیت، احتساب اور اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔














