وفاقی وزرا نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہن نورین نیازی کے معرکۂ حق سے متعلق بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر ناقابل قبول اور پاکستان کی سالمیت کے خلاف قرار دیا ہے۔ وزرا کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ نورین نیازی کے ریمارکس پاکستان مخالف ہیں، ملکی استحکام کو نقصان پہنچانے والوں کے ساتھ نرمی نہیں برتی جائےگی۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے نورین نیازی کے بیان کو افسوسناک اور قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ معرکۂ حق ایک تاریخی فتح تھی جسے دنیا بھر میں تسلیم کیا گیا۔
مزید پڑھیں: عمران خان کی بہن نورین نیازی کو متنازع بیان پر این سی سی آئی اے نے طلب کرلیا
انہوں نے کہاکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی متعدد مواقع پر پاکستان کی فتح کا ذکر کر چکے ہیں۔
طارق فضل چوہدری نے کہاکہ پوری قوم نورین نیازی کے بیان کی مذمت کرتی ہے، ان کا بیان پاکستان کی سالمیت، عزت اور وقار کے خلاف ہے۔
پی ٹی آئی پر پاکستان مخالف بیانیے کا الزام
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہاکہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اور ان کے خاندان نے مسلسل پاکستان مخالف بیانیہ اپنایا ہے۔
انہوں نے کہاکہ اس پارٹی نے پاکستان کو ڈیفالٹ کی جانب دھکیلنے کی ہر ممکن کوشش کی، جن میں عالمی مالیاتی فنڈ کو خطوط لکھنا اور مالیاتی ادارے کے باہر احتجاج کرنا بھی شامل تھا۔
طلال چوہدری نے کہاکہ نورین نیازی کا بیان پاکستان کے خلاف ایک وسیع مہم کی عکاسی کرتا ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے بھی نورین نیازی کے ریمارکس کو مکمل طور پر ناقابل قبول اور قابل مذمت قرار دیا۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا اور سوال اٹھایا کہ نورین نیازی ایسے بیانات کے ذریعے پاکستان کی مسلح افواج کو کیا پیغام دینا چاہتی ہیں۔
بلال اظہر کیانی نے کہا کہ ان کے متنازع بیان کے بعد اب تک کوئی وضاحت جاری نہیں کی گئی۔
نورین نیازی کے الزامات
واضح رہے کہ عمران خان کی بہن نورین نیازی نے معرکہ حق سے متعلق متنازع گفتگو کی تھی، جس کے بعد انہیں این سی سی آئی اے کی جانب سے طلب کرلیا گیا ہے۔
این سی سی آئی اے کا نوٹس
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے ہفتے کے روز ریاستی اداروں کے خلاف متنازع ریمارکس پر نورین نیازی کو طلبی کا نوٹس جاری کیا۔
نوٹس میں کہا گیا کہ نورین نیازی سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں کو بدنام کرنے اور جھوٹے بیانیے کو فروغ دینے کے مقصد سے مبینہ طور پر غلط، توہین آمیز اور اشتعال انگیز مواد پھیلاتی پائی گئی ہیں۔
انہیں 20 جولائی کو دوپہر 12 بجے اسلام آباد میں این سی سی آئی اے کے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔
نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا کہ عدم تعمیل تعزیرات پاکستان 1860 کی دفعہ 174 کے تحت قابل سزا ہے۔
معرکۂ حق کا پس منظر
معرکۂ حق سے مراد پاکستان اور بھارت کے درمیان 22 اپریل سے 10 مئی 2025 تک جاری رہنے والا 19 روزہ فوجی تنازع ہے۔
6 اور 7 مئی 2025 کو بھارت نے پاکستان پر حملے کیے۔ اس سے قبل بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہونے والے ایک حملے کو پاکستان سے جوڑنے کے الزامات عائد کیے تھے، جنہیں اسلام آباد نے بے بنیاد قرار دیا تھا۔
مزید پڑھیں: نورین نیازی سے منسوب عمران خان کی بصارت میں بہتری کی خبر جعلی ہے، علیمہ خان کی وضاحت
پاکستان نے بھرپور طاقت سے جواب دیا، جس کے نتیجے میں دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان فوجی محاذ آرائی شروع ہو گئی۔
80 گھنٹوں سے زیادہ جاری رہنے والی جنگ بالآخر 10 مئی کو امریکا کی مداخلت کے بعد رک گئی۔ اس دوران متعدد بھارتی طیارے اور ڈرون مار گرائے گئے، جبکہ پاکستان کی ایک مؤثر سیکیورٹی استحکام فراہم کرنے والے ملک کے طور پر ساکھ میں اضافہ ہوا۔














