کراچی میں دو روز قبل ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سے اغوا ہونے والے ڈھائی سالہ معصوم بچے اذان کی بحفاظت بازیابی نے اہلِ خانہ سمیت پورے شہر کو سکھ کا سانس لینے کا موقع دیا ہے۔
دو روز تک جاری بے چینی، دعاؤں اور تلاش کے بعد ننھا اذان اپنے والدین کی آغوش میں واپس پہنچ گیا، جہاں جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔
اذان کی واپسی کے بعد اہلِ خانہ نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے میڈیا، سوشل میڈیا صارفین اور ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے بچے کی تلاش میں ان کا ساتھ دیا اور اس کی بحفاظت واپسی کے لیے دعائیں کیں۔
’صرف چند منٹوں میں میرا بچہ نظروں سے اوجھل ہو گیا‘
وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اذان کی والدہ نے بتایا کہ یہ سب کچھ چند ہی منٹوں میں ہوا، ان کا بیٹا صرف 5 منٹ کے لیے ان کی نظروں سے اوجھل ہوا، جبکہ مبینہ اغوا کار 8 منٹ کے اندر ہاؤسنگ سوسائٹی سے باہر نکل گیا۔
اہلِ خانہ کئی گھنٹوں تک سوسائٹی کے مختلف بلاکس، گھروں اور اطراف کے علاقوں میں بچے کو تلاش کرتے رہے، مگر اس دوران انہیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ بچہ پہلے ہی وہاں سے لے جایا جا چکا تھا۔
الحمد و لللہ سب کی کاوشیں رنگ لے آئیں ، نیا ناظم آباد سے اغواء ہونے والا اذان گھارو سے بازیاب ۔ ۔
سول سوسائٹی ، سوشل میڈیا ، ادارے سب نے کام کیا سب مبارکباد کے مستحق ہیں pic.twitter.com/nGOPDfZwxm— Junaid Raza Zaidi (@junaidraza01) July 20, 2026
ان کے مطابق بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج سے معلوم ہوا کہ اذان ایک موٹر سائیکل سوار کے ساتھ جاتا دکھائی دیا، جبکہ ایک آٹو رکشہ بھی فوٹیج میں نظر آیا۔
انہوں نے کہا کہ تفتیش سے ہی معلوم ہو سکے گا کہ واقعے میں کتنے افراد ملوث تھے اور منصوبہ بندی کس نوعیت کی تھی۔
والدہ کی والدین سے جذباتی اپیل
اذان کی والدہ نے اس واقعے کو اپنی زندگی کا سب سے مشکل وقت قرار دیتے ہوئے تمام والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کی حفاظت میں کسی قسم کی غفلت نہ برتیں۔
انہوں نے کہا کہ بچوں کو ایک لمحے کے لیے بھی تنہا نہ چھوڑا جائے اور کسی اجنبی شخص پر آسانی سے اعتماد نہ کیا جائے، کیونکہ ایسے واقعات پل بھر میں پیش آ سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ آزمائش کسی بھی خاندان پر آ سکتی ہے، اس لیے احتیاط ہی سب سے مؤثر حفاظتی تدبیر ہے۔
’دو دن ہمارے لیے صدیوں جیسے تھے‘
اذان کی دادی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بچے کی بحفاظت واپسی ان کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اغوا کے بعد پورا خاندان شدید ذہنی دباؤ میں تھا اور کسی کو کھانے پینے تک کا ہوش نہیں تھا۔
انہوں نے میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے بچے کی تصاویر اور معلومات کو وسیع پیمانے پر شیئر کیا، دعائیں کیں اور ہر ممکن تعاون کیا، جس سے خاندان کو امید اور حوصلہ ملا۔
دادا نے بھی خوشی کا اظہار کیا
اذان کے دادا نے کہا کہ گزشتہ 2 روز ان کے خاندان کے لیے انتہائی کٹھن تھے، تاہم اللہ تعالیٰ نے ان کی دعائیں قبول کیں اور ننھا اذان بحفاظت واپس آ گیا۔
انہوں نے تمام اداروں اور شہریوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا۔
تحقیقات جاری
پولیس کا کہنا ہے کہ بچے کی بحفاظت بازیابی کے باوجود تحقیقات جاری ہیں، واقعے میں ملوث افراد کی شناخت اور گرفتاری کے لیے مختلف پہلوؤں سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں، جبکہ ذمہ داروں کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے کارروائی جاری ہے۔
یہ واقعہ والدین کے لیے ایک اہم یاد دہانی بھی ہے کہ بچوں کی حفاظت کے معاملے میں معمولی سی غفلت بھی سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق گھروں، پارکوں اور رہائشی سوسائٹیوں میں بچوں پر مسلسل نظر رکھنا اور انہیں اجنبی افراد سے محتاط رہنے کی تربیت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔













