خیبرپختونخوا میں بے قاعدگی کی انتہا، لیڈی ہیلتھ ورکرز کی اسامیوں پر مرد امیدوار بھرتی

بدھ 23 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبرپختونخوا کے ضلع مردان میں محکمہ صحت کے متعلقہ افسران نے قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے لیڈی ہیلتھ ورکرز کی مخصوص اسامیوں پر مرد امیدوار بھرتی کرلیے۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا کے زیادہ تر مریض علاج کروانے پمز کیوں آتے ہیں؟

محکمہ صحت کی اعلیٰ سطحی انکوائری میں مردان میں بھرتیوں کے حوالے سے سنگین بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا جس کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر مردان نے دیگر ملازمین کے ساتھ مل کر لیڈی ہیلتھ ورکرز کی مخصوص پوسٹوں پر بھی مرد امیدواروں کو بھرتی کیا جبکہ 66 اسامیوں پر 173 افراد کی بھرتی پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

خیبرپختونخوا کے محکمہ صحت نے مردان کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس میں شکایات موصول ہونے پر 19 جنوری 2023 کو تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ 2 اعلیٰ افسران پر مشتمل انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق 2021-22 میں مردان کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر کو ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ درجہ چہارم کی 66 اسامیوں پر اہل امیدواروں کو بھرتی کیا جائے۔

اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ ایمپلائمنٹ ایکسچینج مردان کے دفتر کی جانب سے 2 مرتبہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس کو اہل امیدواروں کی فہرست بھیجی گئی تاہم انکوائری رپورٹ کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر مردان نے مذکورہ فہرستوں کو نظر انداز کرتے ہوئے 66 پوسٹوں پر 173 افراد کو بھرتی کرلیا۔

مزید پڑھیے: عطااللہ تارڑ کا خیبرپختونخوا حکومت سے 13 سال کا حساب لینے کا اعلان، ریڈیو پاکستان پشاور کی نوتعمیر شدہ عمارت کا افتتاح کردیا

رپورٹ کے مطابق درجہ چہارم کی ان 173 بھرتیوں میں 31 افراد کو لیڈی ہیلتھ ورکرز کی پوسٹوں پر تعینات کیا گیا حالانکہ یہ تمام اسامیاں خواتین کے لیے مختص تھیں اور ان پر مرد امیدواروں کو بھرتی کیا گیا۔

انکوائری رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھرتیوں کے دوران ریٹائرڈ ملازمین کے بچوں اور فوت شدہ ملازمین کے بچوں کے کوٹے پر بھی غیر متعلقہ افراد کو بھرتی کیا گیا۔ اسی طرح حال ہی میں بھرتی کیے گئے 20 سے زائد ملازمین کی عمریں 40 سال سے زیادہ تھیں۔

رکن صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی نے یہ معاملہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر مردان نے کئی افراد سے لاکھوں روپے لے کر غیر متعلقہ امیدواروں کو بھرتی کیا۔ اس کے بعد اس معاملے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کی گئی۔

مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو نااہلی کا خدشہ، سہیل آفریدی کے خلاف کون کون سے مقدمات درج ہیں؟

انکوائری رپورٹ کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر مردان ڈاکٹر کچکول خان اور 3 کلرک اس پورے معاملے میں ملوث پائے گئے۔ بعد ازاں دیگر کمیٹیوں کی رپورٹس کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے محکمہ صحت خیبرپختونخوا نے ڈاکٹر کچکول خان پر جرم ثابت ہونے کے بعد انہیں ملازمت سے برخاست کردیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp