کیلاش برادری کی شادیوں کی قانونی رجسٹریشن کا راستہ ہموار، خیبرپختونخوا اسمبلی سے تاریخی قانون منظور

منگل 21 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخوا اسمبلی نے خیبر پختونخوا کیلاش میرج ایکٹ 2026 منظور کرکے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی مقامی برادری کے لیے ایک جامع عائلی قانون منظور کر لیا ہے۔

اس قانون کے ذریعے پہلی بار کیلاش برادری کی شادی، رجسٹریشن، ازدواجی حقوق اور شادی کے خاتمے کے لیے باقاعدہ قانونی نظام قائم کیا گیا ہے، جبکہ ان کی صدیوں پرانی روایات، رسم و رواج اور ثقافتی شناخت کو بھی قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: کیلاش برادری کے لیے شادیوں کا قانون تیار، ‘بیوی یا شوہر کے مذہب چھوڑنے پر رشتہ ختم‘

اس تاریخی قانون کی بنیاد سابق رکن صوبائی اسمبلی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے فوکل پرسن برائے اقلیتی امور وزیرزادہ نے اپنے نجی بل کے ذریعے رکھی تھی، جسے بعد ازاں محکمہ بلدیات، انتخابات و دیہی ترقی، حکومت خیبر پختونخوا نے سرکاری بل کی حیثیت سے اختیار کیا اور کامیابی کے ساتھ اسمبلی سے منظور کروایا۔

یونیسکو کی فہرست میں شمولیت کے تناظر میں اہم پیش رفت

یہ قانون ایک ایسے وقت میں منظور ہوا ہے جب رواں سال کیلاشہ وادی کے ثقافتی منظرنامے کو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس و ثقافت (یونیسکو) کی عالمی ثقافتی ورثے کی عارضی فہرست میں شامل کیا گیا ہے اور پاکستان اسے عالمی ثقافتی ورثے کی مستقل فہرست میں شامل کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایسے موقع پر یہ قانون نہ صرف کیلاش برادری کی ثقافتی شناخت کے تحفظ کو مضبوط بناتا ہے بلکہ ان کے خاندانی نظام کو بھی پہلی مرتبہ مکمل قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے۔

شادیوں کی قانونی رجسٹریشن کا باقاعدہ نظام

صدیوں سے کیلاش برادری میں شادیاں روایتی طریقوں کے مطابق انجام دی جاتی رہی ہیں، تاہم ان کی رجسٹریشن کا کوئی باقاعدہ قانونی نظام موجود نہیں تھا، جس کے باعث شادی کے ثبوت، وراثت، شناختی دستاویزات اور دیگر قانونی حقوق کے حصول میں مشکلات پیش آتی تھیں۔

اس قانون کے تحت، اور آئندہ 120 دنوں میں قواعد بننے کے بعد، کیلاش وادیوں میں غیر رجسٹرڈ شادیوں کا دور ختم ہو جائے گا اور ہر شادی سرکاری طور پر رجسٹرڈ ہوگی، جس سے خواتین، بچوں اور خاندانوں کو قانونی تحفظ، شناخت اور سرکاری سہولیات تک بہتر رسائی حاصل ہوگی۔

قانون کی اہم شقیں

قانون کے تحت شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کی گئی ہے، دونوں فریقین کی آزادانہ رضامندی لازمی قرار دی گئی ہے، ممنوعہ رشتوں میں شادی پر پابندی عائد کی گئی ہے، کیلاش روایتی شادیوں کو قانونی حیثیت دی گئی ہے، شادی کی رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے، پہلے سے موجود شادیوں کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے اور خلاف ورزی کی صورت میں سزاؤں اور جرمانوں کی بھی شقیں شامل کی گئی ہیں۔

بل کی منظوری تاریخی فیصلہ ہے، وزیرزادہ

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے فوکل پرسن برائے اقلیتی امور، وزیرزادہ نے کہا کہ یہ صرف کیلاش برادری ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک تاریخی دن ہے۔ پہلی مرتبہ ہماری شادیوں اور خاندانی روایات کو ہماری ثقافتی شناخت برقرار رکھتے ہوئے قانونی تحفظ دیا گیا ہے۔ یہ قانون آنے والی نسلوں کے حقوق، وقار اور شناخت کو مزید مضبوط بنائے گا۔

نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق کا مؤقف

نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق خیبر پختونخوا کے صوبائی رابطہ کار، رضوان نے کہا کہ کیلاش میرج ایکٹ اقلیتوں اور مقامی برادریوں کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک تاریخی پیش رفت ہے۔ یہ قانون اس بات کی بہترین مثال ہے کہ ثقافتی روایات کے احترام اور آئینی حقوق کے تحفظ کو ایک ساتھ آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

بلو وینز کی تکنیکی معاونت

بلو وینز کے پروگرام مینیجر قمر نسیم، جنہوں نے اس قانون کا مسودہ تیار کیا اور محکمہ بلدیات، حکومت خیبر پختونخوا کو تکنیکی معاونت فراہم کی، انہوں نے کہا کہ یہ قانون کیلاش برادری کے لیے کئی دہائیوں سے موجود قانونی خلا کو ختم کرتا ہے۔ شادیوں کی قانونی رجسٹریشن سے خواتین، بچوں اور خاندانوں کے حقوق مزید مضبوط ہوں گے، جبکہ پاکستان میں مقامی برادریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے یہ قانون ایک تاریخی نظیر بھی قائم کرے گا۔

بلو وینز نے اس تاریخی قانون کی منظوری پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی، وزیر بلدیات ارشد ایوب خان، وزیر قانون آفتاب عالم آفریدی، محکمہ بلدیات، انتخابات و دیہی ترقی، محکمہ قانون، محکمہ بلدیات کے موجودہ اور سابق ڈائریکٹر جنرلز، ڈائریکٹرز، محکمہ قانون کے افسران، صوبائی اسمبلی کے معزز اراکین اور کیلاش برادری کی مشترکہ کاوشوں کو سراہتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی۔

قانون سازی کی تاریخ میں اہم سنگ میل

خیبر پختونخوا کیلاش میرج ایکٹ 2026 پاکستان کی قانون سازی کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے، جو نہ صرف کیلاش برادری کے خاندانی حقوق کو قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے بلکہ مقامی برادریوں کے ثقافتی ورثے، مساوی شہریت اور آئینی حقوق کے فروغ کے لیے بھی ایک تاریخی مثال قائم کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: نیا کیلاش سروے منظر عام پر: ’مستقبل میں کیلاش لڑکوں کو شادی کے لیے لڑکی نہیں ملے گی‘

مستقبل قریب میں قواعد کی منظوری کے بعد کیلاش وادیوں میں ہر شادی کی قانونی رجسٹریشن ممکن ہوگی، جس سے پاکستان کی قدیم ترین مقامی برادریوں میں سے ایک کو پہلی مرتبہ مکمل قانونی شناخت اور تحفظ حاصل ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حکومت کا 2 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، خطے کی صورتحال اور پاک سعودی تعلقات پر تبادلہ خیال

جنوبی وزیرستان:سیکیورٹی فورسز نے خودکش حملہ ناکام بنا دیا، 4 فتنہ الخوارج دہشتگرد ہلاک

مون سون بارشیں جاری، چناب میں درمیانے درجے کے سیلاب اور کئی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ

ویڈیو

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

آزاد کشمیر الیکشن: گہما گہمی عروج پر پہنچ گئی، کس کا پلڑا بھاری؟

پہلا ٹیسٹ: برائن لارا اسٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری

کالم / تجزیہ

ہوا دان، منگھ، بادگیر یا بادکش

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار