آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 3 مرحلوں میں کرانے کے اعلان نے سیاسی منظرنامے کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ اب تک تمام سیاسی جماعتیں ایک ہی روز ہونے والے انتخابات کی بنیاد پر اپنی انتخابی حکمت عملی ترتیب دے رہی تھیں، تاہم الیکشن کمیشن کے نئے شیڈول کے بعد انتخابی مہم، امیدواروں کی ترجیحات، انتخابی اتحاد اور سیاسی بیانیے میں نمایاں تبدیلی متوقع ہے۔
چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل کے مطابق آزاد کشمیر میں عام انتخابات 3 مراحل میں کرائے جائیں گے۔ ’27 جولائی کو میرپور ڈویژن میں انتخابات ہوں گے، 2 اگست کو مظفرآباد اور مہاجرین مقیم پاکستان کے حلقوں میں پولنگ ہوگی، جبکہ 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں انتخابات کرانے کا اعلان کیا گیا ہے۔‘
مزید پڑھیں: مظفرآباد میں مسلم لیگ ن کا پاور شو: اقتدار میں آکر آزاد کشمیر کا بجٹ 10 گنا بڑھا دیں گے، نواز شریف
کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے جاری احتجاج کے باعث پیدا شدہ صورتحال میں ریاست کا مؤقف ہے کہ کسی کو بھی انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائےگی۔
سابق صدر و وزیراعظم آزاد کشمیر سردار یعقوب نے امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ انتخابات ملتوی کردیے جائیں، لیکن ان کے اس مطالبے کو مسترد کردیا گیا۔
اس سے قبل 27 جولائی کو آزاد کشمیر بھر اور مہاجرین مقیم پاکستان کے حلقوں میں پولنگ ہونی تھی، تاہم اب شیڈول تبدیل کردیا گیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مرحلہ وار انتخابات میں پہلے دو مراحل کے نتائج نہ صرف تیسرے مرحلے کی انتخابی فضا پر اثر انداز ہوں گے بلکہ اس سے ووٹرز کی رائے تبدیل ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام بڑی جماعتیں اب پہلے مرحلوں میں زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کی حکمت عملی پر کام کررہی ہیں۔
تین مرحلوں میں پولنگ کیوں اہم؟
عام طور پر ایک ہی روز ہونے والے انتخابات میں تمام حلقوں کے ووٹرز آزادانہ طور پر اپنا فیصلہ کرتے ہیں اور نتائج بیک وقت سامنے آتے ہیں، لیکن جب انتخابات مرحلہ وار ہوں تو پہلے مرحلے کے نتائج بعد کے مراحل پر نفسیاتی اور سیاسی اثرات مرتب کرتے ہیں۔
تینوں مراحل میں ہونے والے انتخابات کے غیر سرکاری اور غیرحتمی نتائج اسی دن جاری کردیے جائیں گے، تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے سرکاری اعلان تینوں مراحل کے انتخابات کے بعد کیا جائےگا۔
الیکشن کمیشن نے 20 جولائی کو پولنگ ڈیوٹی پر مامور عملے کی ووٹنگ کروا کر یہ واضح پیغام دیا ہے کہ کسی بھی صورت ریاست میں انتخابات ملتوی نہیں ہوں گے۔
کس جماعت کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہے؟
آزاد کشمیر کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے سینیئر تجزیہ کار راجا کفیل احمد نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کسی بھی صورت آزاد کشمیر میں الیکشن ملتوی نہیں ہوں گے، چیف الیکشن کمشنر نے 3 مراحل میں الیکشن کرانے کا اعلان کرکے واضح کردیا ہے کہ ریاست میں انتخابی عمل ہر صورت مکمل کیا جائےگا۔
انہوں نے کہاکہ میرپور ڈویژن میں مسلم لیگ ن کی پوزیشن اس وقت مضبوط ہے، اور پہلے مرحلے کے انتخابی نتائج سامنے آمنے کے بعد دوسرے اور تیسرے مرحلے میں اس کا فائدہ مسلم لیگ ن کو ہوگا، جبکہ پیپلز پارٹی کو نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر میں آئندہ مسلم لیگ ن کی حکومت بننے کا امکان ہے، تاہم استحکام پاکستان پارٹی بھی 5 سے 6 نشستوں پر کامیاب ہو سکتی ہے۔
راجا کفیل احمد نے کہاکہ استحکام پاکستان پارٹی کے صدر سردار تنویر الیاس پر کچھ روز قبل قاتلانہ حملہ ہوا تھا، تاہم اب شیڈول میں تبدیلی کے بعد ان کو وقت مل گیا ہے، اور وہ ریاست میں جاکر اپنی مہم چلائیں گے۔
انہوں نے مزید کہاکہ ایکشن کمیٹی کو کسی بھی صورت اس بات کی اجازت نہیں دی جائےگی کہ وہ انتخابی عمل کو سبوتاژ کرے، کیوں کہ یہ ایک جمہوری عمل ہے اور اسے ہر صورت مکمل ہونا ہے۔
3 مراحل میں الیکشن کرانے کا فائدہ مسلم لیگ ن کو ہو سکتا ہے، خواجہ متین
سینیئر تجزیہ کار خواجہ اے متین نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ الیکشن کمیشن آزاد کشمیر کے فیصلے سے ایک بات تو واضح ہوگئی ہے کہ ریاست میں انتخابات ہر صورت ہوں گے، اور کسی کو بھی رخنہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائےگی۔
انہوں نے کہاکہ انتخابات تین مرحلوں میں کرانے کے فیصلے کا اثر ضرور پڑےگا اور اس کا سیاسی فائدہ مسلم لیگ ن، جبکہ نقصان پیپلز پارٹی کو ہو سکتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ استحکام پاکستان پارٹی پارلیمانی جماعت تو بن جائےگی، لیکن کوئی زیادہ سیٹیں نکالنے کی پوزیشن میں نہیں۔
خواجہ اے متین بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ آزاد کشمیر کے آئندہ عام انتخابات کے بعد مسلم لیگ ن حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائےگی۔
نواز شریف اور مریم نواز کا مظفرآباد میں بڑا جلسہ
دوسری جانب انتخابی مہم اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت نے بھی اپنی تمام تر توجہ آزاد کشمیر پر مرکوز کردی ہے۔
سابق وزیراعظم پاکستان نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے گزشتہ روز مظفرآباد میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کیا، جسے مسلم لیگ (ن) کی انتخابی مہم کا اہم ترین مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اس کے بعد نواز شریف اور مریم نواز 24 جولائی کو میرپور میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کریں گے، جس کی تیاریاں جاری ہیں۔
بلاول بھٹو بھی میدان میں متحرک
ادھر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی آزاد کشمیر میں بھرپور انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔
بلاول بھٹو گزشتہ کئی روز سے مختلف اضلاع میں جلسوں سے خطاب کر رہے ہیں جہاں وہ اپنی جماعت کے منشور، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی مسائل کو اپنی تقاریر کا محور بنا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: ہر گاؤں میں سیاست، ہر گھر میں الیکشن کا ماحول، آزاد کشمیر کے انتخابات ملک کے دیگر حصوں سے مختلف کیسے؟
پیپلز پارٹی کی قیادت کا دعویٰ ہے کہ پارٹی آزاد کشمیر میں ایک مرتبہ پھر بڑی سیاسی قوت کے طور پر سامنے آئے گی۔
مسلم کانفرنس، جموں و کشمیر پیپلز پارٹی، استحکام پاکستان پارٹی اور دیگر جماعتیں بھی اپنی اپنی انتخابی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، جبکہ پی ٹی آئی نے انتخابات کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔












