امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف مسلسل گیارہویں رات فضائی حملے کیے، جن کا مقصد ایران کی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت کو کمزور کرنا بتایا گیا ہے۔
سینٹ کام کے مطابق حملوں میں ایرانی فوجی آپریشن مراکز، بحری تنصیبات، طیاروں کے ہینگرز، ڈرون ذخیرہ گاہوں اور فوجی لاجسٹک انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق تہران، بوشہر، سیریک، بہبہان، امیدیہ اور تبریز کے قریب مختلف مقامات پر دھماکے ہوئے جبکہ تہران میں فضائی دفاعی نظام بھی فعال کر دیا گیا۔
CENTCOM forces began striking military targets in Iran at 7 p.m. ET today for the 11th consecutive night. The strikes are designed to continue degrading Iran's ability to threaten commercial shipping in the Strait of Hormuz.
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 21, 2026
مقامی حکام نے تبریز کے مضافات میں فوجی تنصیب پر حملے کی تصدیق کی، تاہم شہر کے اندر کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ حملوں میں پہلی بار جنوبی ایران کے ساتھ ساتھ تہران اور تبریز کو بھی نمایاں طور پر نشانہ بنایا گیا۔
ادھر کویتی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے بھیجے گئے ایک ڈرون کو مار گرایا۔ ایران اس ماہ امریکی کارروائیوں کے دوبارہ آغاز کے بعد کویت، بحرین اور قطر سمیت کئی خلیجی ممالک کو بھی نشانہ بنا چکا ہے۔
🇺🇸🇮🇷RUBIO: IRAN MUST BE SERIOUS
– Secretary of State Marco Rubio said the U.S. remains open to diplomacy with Iran, saying Washington is “always willing” to engage in negotiations.
– Rubio said Iran has reached out for talks, but accused Tehran of failing to keep previous… pic.twitter.com/QopXwz1PpC
— Belaaz News (@TheBelaaz) July 22, 2026
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ واشنگٹن اب بھی سفارتی حل کا خواہاں ہے، تاہم ایران کو مذاکرات میں سنجیدگی دکھانا ہوگی، انہوں نے کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کانگریس کو بتایا کہ ایران کے خلاف کارروائیوں پر اب تک 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں جبکہ پینٹاگون کو مزید 90 ارب ڈالر درکار ہیں۔ اس مطالبے پر ڈیموکریٹ ارکان نے شدید اعتراضات کیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا امریکا ایران کشیدگی پر اظہار تشویش، برادر ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی عندیہ دیا ہے کہ امریکا جلد ایران کی مشتبہ جوہری تنصیب ’پک ایکس ماؤنٹین‘ پر بڑا حملہ کر سکتا ہے۔
اس کے جواب میں ایران کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر نے خبردار کیا کہ اگر ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو خطے میں حملوں کا دائرہ مزید وسیع کر دیا جائے گا۔
ادھر کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔ ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے اسلام آباد میں پاکستانی حکام سے ملاقاتیں کیں۔

الجزیرہ کے مطابق قطر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے ٹیلیفونک رابطے میں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی کوششوں کو تیز کرنے پر اتفاق کیا۔
سینٹ کام کے مطابق گزشتہ 3 ماہ میں ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 30 سے زائد تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
تاہم امریکی فوج کا کہنا ہے کہ تمام تر کشیدگی کے باوجود آبی گزرگاہ کھلی ہے اور مئی سے اب تک تقریباً 900 تجارتی جہازوں اور 45 کروڑ بیرل خام تیل کی محفوظ ترسیل میں معاونت فراہم کی گئی ہے۔













