موریطانیہ کے ساحل کے قریب یورپ جانے کی کوشش کرنے والی ایک کشتی کے حادثے میں کم از کم 143 پناہ گزین اور تارکین وطن ہلاک یا لاپتا ہو گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین یعنی یواین ایچ سی آر نے ایک بیان میں بتایا کہ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب 14 سے 18 جولائی کے دوران موریطانیہ کے ساحل کے قریب 3 مختلف امدادی کارروائیوں میں دیگر خراب کشتیوں سے 387 افراد کو بحفاظت بچایا گیا تھا۔
ادارے کے مطابق یہ کشتی گیمبیا کے علاقے بافولوٹو سے روانہ ہوئی تھی اور 25 روز تک سمندر میں بھٹکنے کے بعد 18 جولائی کو ریسکیو کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: لیبیا کشتی حادثہ: انسانی اسمگلنگ میں ملوث باپ بیٹے کو 44 سال قید کی سزا
کشتی جب موریطانیہ کی بندرگاہ نواذیبو پہنچی تو اس میں متعدد لاشیں اور 38 زندہ بچ جانے والے افراد موجود تھے۔
یو این ایچ سی آر کے ترجمان میٹ سالٹ مارش نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ بچ جانے والوں میں 2 بچے بھی شامل ہیں، جنہوں نے اس سفر کے دوران اپنے تمام اہل خانہ کو کھو دیا۔
مذکورہ دونوں بچوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
U.N. refugee agency: 144 people dead or missing off Mauritania https://t.co/LnfWlYdE07
— The Right News, Right Now. (@BradPorcellato) July 21, 2026
انہوں نے مزید بتایا کہ 14 جولائی کو موریطانیہ پہنچنے والی ایک اور کشتی میں بھی ایک شخص جان کی بازی ہار گیا۔
ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق افریقہ کے صحرائے اعظم کے جنوب میں واقع مختلف ممالک سے تھا، تاہم ان کی اموات کی وجوہات کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب موریطانیہ کے ساحلی محافظوں کے مطابق کشتی میں 160 افراد سوار تھے اور روانگی کے کچھ عرصے بعد اس کا ایندھن ختم ہو گیا، جس کے باعث 122 افراد لاپتا ہو گئے۔
مزید پڑھیں: غیر قانونی تارکین وطن دنیا بھر میں سلامتی کے لیے چیلنج، ’دی گارڈین‘ کی رپورٹ میں پاکستانی مؤقف کی تائید
یو این ایچ سی آر نے کینری جزائر جانے والے سمندری راستے کو دنیا کے خطرناک ترین راستوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ طویل فاصلے، گنجائش سے زیادہ مسافروں اور غیر محفوظ کشتیوں کی وجہ سے اس راستے پر اموات کی شرح بہت زیادہ ہے۔
ادارے نے اس بات پر زور دیا کہ لوگوں کو خطرناک سمندری سفر سے روکنے کے لیے تعلیم، روزگار اور بہتر معاشی مواقع فراہم کرنا ناگزیر ہے۔
مزید پڑھیں: لیبیا کشتی حادثہ: انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایجنٹ گرفتار
واضح رہے کہ موریطانیہ بحرِ اوقیانوس کے اس راستے پر ایک اہم روانگی کا مقام ہے، جہاں سے ہر سال ہزاروں تارکین وطن اسپین کے زیرِ انتظام کینری جزائر پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
تاہم یورپی یونین کی مالی معاونت سے موریطانیہ میں تارکین وطن کے خلاف کارروائیوں کے بعد وہاں پہنچنے والوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔
دوسری جانب ناقدین کے مطابق اس کے نتیجے میں تارکین وطن مزید طویل اور خطرناک سمندری راستے اختیار کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔













