امریکا کے فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن یعنی ایف سی سی نے قومی سلامتی کے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیش نظر، بالخصوص چین سے درآمد کیے جانے والے جدید ڈرونز پر پابندی عائد کرنے کے لیے نئے قواعد تجویز کر دیے ہیں۔
منگل کو جاری کیے گئے مجوزہ قواعد کے مطابق امریکا ایسے جدید ڈرونز کی درآمد روک دے گا جو سوارمنگ صلاحیت رکھتے ہیں یا ہائی ریزولوشن تھرمل امیجنگ کے لیے انفراریڈ سینسرز سے لیس ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اس نوعیت کی ٹیکنالوجی فوجی مقاصد کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے، جس سے قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
🔴 FCC bans imports of advanced drones from China, targets swarming and thermal imaging
The Federal Communications Commission announced rules to prohibit US imports of drones equipped with swarming capabilities and infrared thermal sensors, citing national security threats. The… pic.twitter.com/R7Mul1JoEq
— NewsTongue (@NewsTongueX) July 22, 2026
ایف سی سی نے دسمبر میں چین سے باہر تیار کیے جانے والے ڈرون پرزہ جات کے لیے دی گئی استثنیٰ کی مدت میں توسیع کرتے ہوئے اسے جنوری 2028 تک بڑھا دیا ہے۔
اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکومت کا ہدف خاص طور پر ڈی جے آئی اور آٹیل روبوٹکس جیسی چینی ڈرون ساز کمپنیوں کو محدود کرنا ہے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر 2020 کے امریکی صدارتی انتخابات میں مداخلت کا الزام عائد کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کا چین کی ڈیپ سیک سمیت متعدد کمپنیوں کو بلیک لسٹ میں شامل کرنے سے گریز، 100 سے زائد ادارے سیکیورٹی رسک قرار
مبصرین کے مطابق یہ اقدام غیر ملکی نگرانی کی ٹیکنالوجی کے خلاف واشنگٹن کے سخت ہوتے مؤقف کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ مقامی صارفین کے لیے سپلائی چین پر فوری منفی اثرات کو کم کرنے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔
ایف سی سی حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ڈرون سپلائی چین کو محفوظ بنانا اور حساس معلومات کو غیر ملکی ریاستوں کی دسترس سے بچانا ہے۔
واضح رہے کہ 2022 میں بھی ایف سی سی نے قومی سلامتی کے خدشات کے باعث چینی کمپنیوں ہواوے اور زیڈ ٹی ای سمیت متعدد برانڈز کے ٹیلی کمیونیکیشن اور ویڈیو نگرانی کے آلات پر پابندی عائد کی تھی۔
مزید پڑھیں: امریکا چین مذاکرات میں تجارت پر بات، اور روبیو کے نام سے جڑا دلچسپ معاملہ، آبنائے ہرمز بھی زیرِ بحث
امریکی سیکیورٹی حکام کا مؤقف ہے کہ ان کمپنیوں کا سامان 5 جی نیٹ ورکس میں مداخلت اور حساس معلومات کے حصول کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل 2019 میں صدر ٹرمپ نے سیکیور اینڈ ٹرسٹڈ کمیونیکیشنز نیٹ ورکس ایکٹ پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت ایسی مواصلاتی خدمات اور آلات کی نشاندہی کے لیے معیار مقرر کیے گئے جو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھے جا سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایف سی سی کا تازہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکا میں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان اس بات پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ غیر ملکی، خصوصاً چینی، ڈرون ٹیکنالوجی کو ملکی بنیادی ڈھانچے کے لیے ایک ناقابل قبول سیکیورٹی خطرہ تصور کیا جا رہا ہے۔













