ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے وزارت داخلہ اسلام آباد کا دورہ کیا، جہاں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر فیڈرل کانسٹیبلری کے چاق چوبند دستے نے ایرانی وزیر داخلہ کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔
استقبالیہ تقریب کے دوران ایرانی وفد کے ارکان کا وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جبکہ پاکستانی وزارت داخلہ اور اس کے ذیلی اداروں کے سربراہان کا ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے تعارف کرایا گیا۔
بعد ازاں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کے درمیان ملاقات ہوئی، جس کے بعد دونوں ممالک کے وفود کی سطح پر بھی مذاکرات ہوئے۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، باہمی تجارت، سرحدی تعاون اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسلام آباد،ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی کی وزارت داخلہ آمد، پاکستانی ہم منصب محسن نقوی نے پرتپاک خیرمقدم کیا
فیڈرل کانسٹیبلری کے چاق و چوبند دستے نے ایرانی وزیر داخلہ کو سلامی پیش کی @abduljabbarisb @HussainAhmedCh8 @KulAalam pic.twitter.com/gGquHex3vo— Media Talk (@mediatalk922) July 22, 2026
دونوں وزرائے داخلہ نے انسداد دہشتگردی، انسداد منشیات، غیر قانونی امیگریشن اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر افغانستان سے ملحقہ سرحد کے ذریعے دہشتگردی اور منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے مشترکہ مؤقف اختیار کرنے اور ادارہ جاتی رابطوں کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ تمام شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وزیر داخلہ اسکندر مومنی کی امن کے لیے کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ امید ہے جلد مثبت پیشرفت سامنے آئے گی اور خطے میں امن و استحکام کو فروغ ملے گا۔
مزید پڑھیں:ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کے پاکستان دورے کا کیا مقصد ہے؟
ایرانی وفد میں گورنر جنرل سیستان و بلوچستان، نائب وزیر داخلہ، نائب وزیر برائے اربن ڈویلپمنٹ و ٹرانسپورٹ، نیشنل ایرانی آئل کمپنی کے سربراہ، وزیر زراعت کے خصوصی نمائندے اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔
ملاقات میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، وفاقی سیکریٹری داخلہ، چیئرمین نادرا، ڈی جی ایف آئی اے، ڈی جی اینٹی نارکوٹکس فورس، آئی جی فیڈرل کانسٹیبلری، ڈی جی این سی سی آئی اے، ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹس، چیئرمین سی ڈی اے، آئی جی اسلام آباد پولیس اور وزارت داخلہ کے ایڈیشنل سیکرٹریز بھی موجود تھے۔














