امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ پر امریکا کے اب تک 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، جبکہ جنگی اخراجات پورے کرنے کے لیے کانگریس سے فوری اضافی فنڈز کی منظوری بھی طلب کر لی گئی ہے۔
واشنگٹن میں کانگریس کی ایک سماعت کے دوران پیٹ ہیگسیتھ نے بتایا کہ یہ رقم جنگی کارروائیوں کے موجودہ اخراجات اور 30 ستمبر تک متوقع اخراجات پر مشتمل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟
تاہم پینٹاگون نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس تخمینے کی بنیاد کیا ہے۔ قبل ازیں مارچ میں ذرائع نے بتایا تھا کہ جنگ کے ابتدائی 6 روز کے دوران ہی امریکا کو کم از کم 11.3 ارب ڈالر خرچ کرنا پڑے تھے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ ماہ کانگریس سے تقریباً 90 ارب ڈالر کے اضافی فنڈز طلب کر چکے ہیں، جن کا بڑا حصہ ایران جنگ کے لیے مختص کیا جانا ہے۔
JUST IN: US Defense Secretary Pete Hegseth said the war with Iran has cost the United States $37.5 billion so far, up from an earlier estimate of nearly $29 billion in mid May. pic.twitter.com/9jCQ5TmxwG
— Smashi (@smashibusiness) July 22, 2026
یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل جنگ کی بڑھتی لاگت اور عوامی ناراضی سیاسی بحث کا مرکز بن چکی ہے۔
سماعت کے دوران ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتوں کے ارکان نے شکایت کی کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران جنگ کی حکمت عملی اور مستقبل کے منصوبوں سے کانگریس کو مناسب طور پر آگاہ نہیں رکھا۔
ڈیموکریٹ سینیٹر پیٹی مرے نے صدر ٹرمپ پر جنگ میں مزید شدت لانے اور ایسے اقدامات کی دھمکی دینے کا الزام عائد کیا جنہیں ناقدین جنگی جرائم قرار دیتے ہیں، جبکہ سینیٹر کرسٹن گلیبرانڈ نے بھی انتظامیہ کے متضاد بیانات پر سخت تنقید کی۔
مزید پڑھیں: امریکا کے ایران پر مسلسل گیارہویں رات فضائی حملے، متعدد فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
پیٹ ہیگسیتھ نے خبردار کیا کہ اگر اضافی فنڈز فراہم نہ کیے گئے تو فوجی تربیت، سازوسامان کی دیکھ بھال اور مستقبل کی دفاعی صلاحیتوں کی تیاری متاثر ہوگی۔
انہوں نے کانگریس پر زور دیا کہ نہ صرف اضافی فنڈز بلکہ 2027 کے لیے 1.5 کھرب ڈالر کے دفاعی بجٹ کی بھی منظوری دی جائے۔
ادھر امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی رواں ماہ کے آغاز میں ختم ہو چکی ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے پر روزانہ حملے کر رہے ہیں۔

پینٹاگون کے مطابق ایران جنگ میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 18 ہو گئی ہے، جبکہ تقریباً 430 فوجی زخمی ہوئے ہیں۔
گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے ایران میں توانائی کے مراکز، پلوں، جزیرہ خارگ کے آئل ہب اور زیر زمین جوہری تنصیب پک ایکس ماؤنٹین کو بھی ممکنہ اہداف قرار دیا تھا۔
منگل کو انہوں نے کہا کہ امریکا اس پہاڑی تنصیب کو بہت جلد نشانہ بنائے گا۔













