پاکستانی کرکٹ زوال کا شکار کیوں؟ تجزیہ کار فواد مصطفیٰ سے گفتگو

بدھ 22 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کرکٹ ایک بار پھر تنقید کی زد میں ہے، عالمی مقابلوں میں غیر تسلی بخش نتائج، قومی ٹیم میں مسلسل تبدیلیاں، کوچز اور سلیکشن کے معاملات پر اٹھنے والے سوالات نے شائقینِ کرکٹ کو مایوس کیا ہے۔

انہی موضوعات پر وی نیوز کے پوڈکاسٹ میں کرکٹ تجزیہ کار فواد مصطفیٰ نے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ کو درپیش مسائل اور ان کے ممکنہ حل پر اظہارِ خیال کیا۔

فواد مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ کے مسائل صرف میدان میں نظر آنے والی کارکردگی تک محدود نہیں، بلکہ ان کی جڑیں انتظامی نظام میں موجود ہیں۔

ان کے مطابق کرکٹ کے انتظامی معاملات چلانے کے لیے پیشہ ور ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے، جو کھیل کی گورننس، منصوبہ بندی، مالی نظم و نسق اور ادارہ جاتی امور سے بخوبی واقف ہوں۔

انہوں نے کہا کہ کوچنگ اور کرکٹ انتظامیہ دو الگ شعبے ہیں، اس لیے ایک کامیاب سابق کھلاڑی لازماً کامیاب منتظم بھی ثابت نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ میں بار بار ہونے والی انتظامی تبدیلیوں کے باعث پالیسیوں کا تسلسل برقرار نہیں رہتا۔

’ہر نئی انتظامیہ اپنی ترجیحات کے مطابق فیصلے کرتی ہے، جس کے نتیجے میں طویل المدتی منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے۔‘

ان کے مطابق کامیاب کرکٹ کھیلنے والے ممالک اپنی حکمتِ عملی کئی برسوں کے لیے مرتب کرتے ہیں، جبکہ پاکستان میں اکثر فوری نتائج کے دباؤ کے تحت فیصلے کیے جاتے ہیں۔

فواد مصطفیٰ نے ڈومیسٹک کرکٹ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مضبوط قومی ٹیم کی بنیاد ایک مضبوط ڈومیسٹک نظام ہوتا ہے۔

’اگر علاقائی اور فرسٹ کلاس کرکٹ کو مستحکم کیا جائے، نوجوان کھلاڑیوں کو تسلسل کے ساتھ مواقع دیے جائیں اور انہیں کارکردگی کی بنیاد پر آگے لایا جائے تو قومی ٹیم کو باصلاحیت کھلاڑیوں کی مستقل فراہمی ممکن ہو سکتی ہے۔‘

انہوں نے پاور ہٹرز کے حوالے سے بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صرف نئے پاور ہٹرز کی تلاش کا نعرہ لگانا مسئلے کا حل نہیں۔

ان کے مطابق پاکستان ماضی میں عبدالرزاق اور شاہد آفریدی جیسے قدرتی پاور ہٹرز پیدا کر چکا ہے۔

’اصل ضرورت یہ ہے کہ ایسے باصلاحیت کھلاڑیوں کو ابتدائی مرحلے ہی سے معیاری تربیت، اعتماد اور مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ ان کی صلاحیتیں مزید نکھر سکیں۔‘

کرکٹ تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ قومی ٹیم میں سلیکشن کا عمل مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر ہونا چاہیے تاکہ کھلاڑیوں کا اعتماد بحال ہو۔

انہوں نے کہا کہ جب کارکردگی کو اولین ترجیح دی جائے گی تو نہ صرف کھلاڑیوں میں مثبت مقابلے کی فضا پیدا ہوگی بلکہ ٹیم کے مجموعی نتائج بھی بہتر ہوں گے۔

فواد مصطفیٰ کے مطابق پاکستان میں کرکٹ ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، تاہم اس ٹیلنٹ کو منظم انداز میں آگے لانے کے لیے مضبوط ادارہ جاتی نظام، واضح پالیسی، مستقل مزاجی اور پیشہ ورانہ سوچ ناگزیر ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کرکٹ کو غیر ضروری تنازعات اور غیر یقینی صورتحال سے دور رکھ کر ایک طویل المدتی وژن کے تحت چلایا جانا چاہیے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر پاکستان کرکٹ بورڈ انتظامی اصلاحات، شفاف فیصلوں، مضبوط ڈومیسٹک ڈھانچے اور میرٹ پر مبنی نظام کو ترجیح دے تو قومی ٹیم نہ صرف اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کر سکتی ہے بلکہ مستقبل میں ایک بار پھر عالمی کرکٹ کی مضبوط ٹیموں میں شمار ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حکومت کا 2 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، خطے کی صورتحال اور پاک سعودی تعلقات پر تبادلہ خیال

جنوبی وزیرستان:سیکیورٹی فورسز نے خودکش حملہ ناکام بنا دیا، 4 فتنہ الخوارج دہشتگرد ہلاک

مون سون بارشیں جاری، چناب میں درمیانے درجے کے سیلاب اور کئی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ

ویڈیو

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

آزاد کشمیر الیکشن: گہما گہمی عروج پر پہنچ گئی، کس کا پلڑا بھاری؟

پہلا ٹیسٹ: برائن لارا اسٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری

کالم / تجزیہ

ہوا دان، منگھ، بادگیر یا بادکش

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار