پاکستان تحریک انصاف کے رہنما میاں محمود الرشید نے 9 مئی سے متعلق کیس میں ضمانت کے لیے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کے 28 اپریل کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست گزار کو ضمانت پر رہا کیا جائے۔
اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے مقدمے کے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا، جبکہ 9 مئی کے الزامات کے حوالے سے کوئی ٹھوس یا قابلِ اعتماد ثبوت موجود نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ : فیڈرل لینڈ کمیشن کا 1996 کا حکم اور لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار
درخواست کے مطابق کسی بھی گواہ نے میاں محمود الرشید پر اشتعال انگیزی کا الزام نہیں لگایا۔
اپیل میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے برآمدگی کا الزام مسترد کر دیا تھا، تاہم اس کے باوجود درخواست گزار کو سازش کے جرم میں سزا سنائی گئی۔
درخواست میں یہ بھی مؤقف اپنایا گیا ہے کہ سازش سے متعلق گواہوں کے مختلف عدالتوں میں دیے گئے بیانات ایک دوسرے سے متضاد تھے۔
مزید پڑھیں: ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
درخواست گزار نے اپنی اپیل میں یہ نکتہ بھی اٹھایا ہے کہ اسی مقدمے میں شریک ملزم شاہ محمود قریشی کو بری کیا جا چکا ہے، لہٰذا ایک ہی مقدمے میں ایک ملزم کو بری اور دوسرے کو سزا دینا قانون اور انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔
میاں محمود الرشید نے اپنی درخواست میں پنجاب حکومت اور ایس ایچ او تھانہ شادمان کو فریق بنایا ہے۔













