ایران کی جانب سے امریکی نمائندوں سے ملاقات سے انکار کے بعد عالمی منڈی میں بدھ کے روز ابتدائی کاروبار کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
جس سے 4 ماہ طویل جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی عبوری جنگ بندی پر غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے۔
برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 50 سینٹ یا 0.69 فیصد اضافے کے ساتھ 73.45 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
یہ بھی پڑھیں: کیا روس سے سستا خام تیل خرید کر پاکستان میں پیٹرول کی قیمت کم کی جا سکتی ہے؟
جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 63 سینٹ یا 0.91 فیصد اضافے کے بعد 70.13 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف منگل کو دوحہ پہنچے، جہاں وائٹ ہاؤس نے ان کی آمد کو ’اعلیٰ سطحی مذاکرات‘ قرار دیا۔
تاہم ایران اور میزبان ملک قطر نے واضح کیا کہ امریکی وفد کی ملاقات براہِ راست ایرانی حکام سے نہیں بلکہ ثالثوں کے ذریعے ہوگی۔
Oil prices climb as Iran's refusal to meet US envoys dims ceasefire hopes
Read more:https://t.co/YNRI6Uo0wC #lka #srilanka #adaderana #news #lanka #SriLankaNews #SriLanka #Iran #iranwar2026 #IranWarzone #middeeastwar #WarInMiddleEast #WarInIran #DonaldTrump #USIranWar #Israel…
— Ada Derana (@adaderana) July 1, 2026
قطر کے مطابق وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے بھی وٹکوف اور کشنر سے ملاقات کی۔
رواں سال کی پہلی اور دوسری سہ ماہی کے درمیان برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 45 ڈالر فی بیرل کی کمی ریکارڈ کی گئی، جو 2008 کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد سب سے بڑی سہ ماہی کمی ہے۔
اسی عرصے میں امریکی خام تیل کی قیمت تقریباً 31 ڈالر فی بیرل گری، جو 2020 میں کورونا وبا کے دوران عالمی طلب میں شدید کمی کے بعد سب سے بڑی گراوٹ تھی۔
مزید پڑھیں: پاک-امریکا تعلقات میں نئے دور کا آغاز، خام تیل سے بھرا پہلا جہاز آج پاکستان پہنچ گیا
یہ کمی مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے خاتمے کی جانب پیشرفت کے باعث سامنے آئی، جس سے جنگ کے دوران قیمتوں میں ہونے والے غیر معمولی اضافے کا بڑا حصہ واپس آ گیا۔
دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز کے سروے کے مطابق تجزیہ کاروں نے ایران جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی مرتبہ 2026 کے لیے تیل کی قیمتوں کی پیشگوئی کم کر دی ہے۔
اس کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی بحالی ہے، جس سے تیل کی فراہمی میں طویل تعطل کے خدشات کم ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب کا شام حکومت کو ساڑھے 16 لاکھ بیرل خام تیل فراہم کرنے کا اعلان
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کسی قسم کا ٹول ٹیکس وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ حالات اس نہج پر نہیں پہنچیں گے جہاں ایران اس اہم بحری گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت دوبارہ جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال ہو چکی ہے۔
مزید پڑھیں: جی 7 ممالک کا اہم فیصلہ، خام تیل کی قیمت میں نمایاں کمی
ادھر امریکی پیٹرولیم انسٹیٹیوٹ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا میں خام تیل کے ذخائر میں 61 لاکھ بیرل کی کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ پیٹرول کے ذخائر بھی کم ہوئے ہیں۔
اب سرمایہ کاروں کی نظریں امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کی جانب سے بدھ کو جاری کیے جانے والے تیل کے سرکاری ذخائر کے اعداد و شمار پر مرکوز ہیں، جو عالمی منڈی کی آئندہ سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔














