بھارت میں پیپر لیک اسکینڈل پر احتجاج، مودی حکومت دباؤ میں، طلبہ سے مذاکرات کا نیا دور

ہفتہ 25 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت میں امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں اور سوالیہ پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر شروع ہونے والا طلبہ احتجاج وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج بنتا جا رہا ہے۔

حکومت نے ہفتہ کو احتجاجی رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کا ایک اور دور شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ مظاہرین اپنے بنیادی مطالبے، یعنی وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے، پر بدستور قائم ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: میڈیکل انٹری ٹیسٹ پیپر لیک اسکینڈل، بھارت میں کم از کم 20 طلبہ کی خودکشی

یہ احتجاج 2014 میں نریندر مودی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد نوجوانوں کی جانب سے حکومت کے خلاف سامنے آنے والی سب سے بڑی عوامی تحریک قرار دیا جا رہا ہے۔

اپوزیشن جماعتوں نے بھی طلبہ کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے مون سون اجلاس کے دوران حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، جس کے باعث پارلیمانی کارروائی بھی متاثر ہوئی۔

دارالحکومت نئی دہلی میں ہزاروں مظاہرین مسلسل چوتھے روز بھی سڑکوں پر موجود رہے، حالانکہ انتظامیہ نے احتجاجی مقام تک رسائی محدود کرنے کے لیے شہر کے 18 میٹرو اسٹیشن بند کر رکھے ہیں۔

احتجاجی جماعت کے قومی ترجمان آشوتوش رانکا نے بتایا کہ حکومت نے ہفتہ کی سہ پہر مذاکرات کے لیے وقت دیا ہے، تاہم مظاہرین صرف ایک واضح جواب چاہتے ہیں کہ آیا وزیر تعلیم سے استعفیٰ لیا جائے گا یا نہیں۔

پیر کے روز پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال کے بعد احتجاج میں مزید شدت آ گئی۔

مزید پڑھیں: مودی کا مؤقف مسترد، کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج میں تیزی لانے کا اعلان، حکومت نے پھر مہلت مانگ لی

ان کارروائیوں میں متعدد طلبہ زخمی ہوئے، جس کے بعد حکومت پر تنقید میں اضافہ ہوا۔

احتجاج کرنے والے نوجوانوں کا کہنا ہے کہ ان کا غصہ صرف امتحانی پرچوں کے لیک ہونے تک محدود نہیں بلکہ ملک میں روزگار کی کمی، بدعنوانی اور حکومتی جوابدہی کے فقدان نے بھی نوجوان نسل میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔

جمعہ کو ہونے والے مذاکرات میں احتجاجی رہنماؤں سوربھ داس اور آشوتوش رانکا نے وفاقی وزرا جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ کو خبردار کیا کہ اگر وزیر تعلیم مستعفی نہ ہوئے تو احتجاج مزید وسیع ہو سکتا ہے۔

ان مذاکرات سے چند گھنٹے قبل معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کی، جس سے مذاکرات میں پیشرفت کی امید پیدا ہوئی۔

دوسری جانب حکام نے احتجاجی علاقے میں مسلسل 5ویں روز بھی موبائل انٹرنیٹ سروس معطل رکھی، تاہم مظاہرین نے واضح کیا کہ انٹرنیٹ، میٹرو اور بس سروس بند کرنے سے ان کی تحریک کمزور نہیں ہوگی۔

مزید پڑھیں: بھارتی فوج میں تقسیم، اہلکار مودی حکومت کے خلاف احتجاج کا حصہ بن گئے

یہ احتجاج اس وقت شدت اختیار کر گیا جب میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے سوالیہ پرچے لیک ہونے کے باعث 20 لاکھ سے زائد امیدواروں کو دوبارہ امتحان دینا پڑا، جس سے بھارتی تعلیمی نظام کی خامیاں نمایاں ہوئیں۔

مظاہرین وزیر تعلیم کے استعفے کے ساتھ ساتھ امتحانی نظام میں جامع اصلاحات اور شفافیت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حکومت کا 2 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، خطے کی صورتحال اور پاک سعودی تعلقات پر تبادلہ خیال

جنوبی وزیرستان:سیکیورٹی فورسز نے خودکش حملہ ناکام بنا دیا، 4 فتنہ الخوارج دہشتگرد ہلاک

مون سون بارشیں جاری، چناب میں درمیانے درجے کے سیلاب اور کئی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ

ویڈیو

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

آزاد کشمیر الیکشن: گہما گہمی عروج پر پہنچ گئی، کس کا پلڑا بھاری؟

پہلا ٹیسٹ: برائن لارا اسٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری

کالم / تجزیہ

ہوا دان، منگھ، بادگیر یا بادکش

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار