بھارت میں امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں اور سوالیہ پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر شروع ہونے والا طلبہ احتجاج وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
حکومت نے ہفتہ کو احتجاجی رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کا ایک اور دور شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ مظاہرین اپنے بنیادی مطالبے، یعنی وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے، پر بدستور قائم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: میڈیکل انٹری ٹیسٹ پیپر لیک اسکینڈل، بھارت میں کم از کم 20 طلبہ کی خودکشی
یہ احتجاج 2014 میں نریندر مودی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد نوجوانوں کی جانب سے حکومت کے خلاف سامنے آنے والی سب سے بڑی عوامی تحریک قرار دیا جا رہا ہے۔
اپوزیشن جماعتوں نے بھی طلبہ کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے مون سون اجلاس کے دوران حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، جس کے باعث پارلیمانی کارروائی بھی متاثر ہوئی۔
Protesting students clarify they are non-violent, seeking education, jobs and democratic values. They demand government accountability, open dialogue and apologies for systemic failures, reminding leaders that elected officials serve citizens, not the other way around. pic.twitter.com/KRWsy9jo16
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
دارالحکومت نئی دہلی میں ہزاروں مظاہرین مسلسل چوتھے روز بھی سڑکوں پر موجود رہے، حالانکہ انتظامیہ نے احتجاجی مقام تک رسائی محدود کرنے کے لیے شہر کے 18 میٹرو اسٹیشن بند کر رکھے ہیں۔
احتجاجی جماعت کے قومی ترجمان آشوتوش رانکا نے بتایا کہ حکومت نے ہفتہ کی سہ پہر مذاکرات کے لیے وقت دیا ہے، تاہم مظاہرین صرف ایک واضح جواب چاہتے ہیں کہ آیا وزیر تعلیم سے استعفیٰ لیا جائے گا یا نہیں۔
پیر کے روز پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال کے بعد احتجاج میں مزید شدت آ گئی۔
مزید پڑھیں: مودی کا مؤقف مسترد، کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج میں تیزی لانے کا اعلان، حکومت نے پھر مہلت مانگ لی
ان کارروائیوں میں متعدد طلبہ زخمی ہوئے، جس کے بعد حکومت پر تنقید میں اضافہ ہوا۔
احتجاج کرنے والے نوجوانوں کا کہنا ہے کہ ان کا غصہ صرف امتحانی پرچوں کے لیک ہونے تک محدود نہیں بلکہ ملک میں روزگار کی کمی، بدعنوانی اور حکومتی جوابدہی کے فقدان نے بھی نوجوان نسل میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔
جمعہ کو ہونے والے مذاکرات میں احتجاجی رہنماؤں سوربھ داس اور آشوتوش رانکا نے وفاقی وزرا جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ کو خبردار کیا کہ اگر وزیر تعلیم مستعفی نہ ہوئے تو احتجاج مزید وسیع ہو سکتا ہے۔

ان مذاکرات سے چند گھنٹے قبل معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کی، جس سے مذاکرات میں پیشرفت کی امید پیدا ہوئی۔
دوسری جانب حکام نے احتجاجی علاقے میں مسلسل 5ویں روز بھی موبائل انٹرنیٹ سروس معطل رکھی، تاہم مظاہرین نے واضح کیا کہ انٹرنیٹ، میٹرو اور بس سروس بند کرنے سے ان کی تحریک کمزور نہیں ہوگی۔
مزید پڑھیں: بھارتی فوج میں تقسیم، اہلکار مودی حکومت کے خلاف احتجاج کا حصہ بن گئے
یہ احتجاج اس وقت شدت اختیار کر گیا جب میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے سوالیہ پرچے لیک ہونے کے باعث 20 لاکھ سے زائد امیدواروں کو دوبارہ امتحان دینا پڑا، جس سے بھارتی تعلیمی نظام کی خامیاں نمایاں ہوئیں۔
مظاہرین وزیر تعلیم کے استعفے کے ساتھ ساتھ امتحانی نظام میں جامع اصلاحات اور شفافیت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔












