بھارت میں نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی بے چینی اور انسٹاگرام پر سرگرم جنریشن زیڈ کی مہم نے وزیر اعظم نریندر مودی کی سیاسی برتری کو ایک نیا چیلنج دے دیا ہے۔ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف تقریباً 5 ہفتوں سے جاری احتجاج کے بعد وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کو حکومت کے لیے ایک غیر معمولی سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ یہ احتجاج آئندہ سال اتر پردیش، پنجاب اور گجرات میں ہونے والے اہم ریاستی انتخابات سے قبل بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے۔
India’s Instagram Gen Z dents Modi’s aura ahead of key state polls https://t.co/CxlUCnAnSn
— The Straits Times (@straits_times) July 25, 2026
رائٹرز کے مطابق نوجوانوں کی تنظیم ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) نے مئی میں چند ہی دنوں کے اندر انسٹاگرام پر تقریباً 2 کروڑ 20 لاکھ فالوورز حاصل کر لیے۔ تنظیم نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف احتجاج شروع کیا، جس میں ہزاروں طلبہ نے دہلی سمیت مختلف شہروں میں مظاہرے کیے۔ سخت پولیس کارروائی کے باوجود احتجاج کا دائرہ پورے ملک تک پھیل گیا، جس کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے انسٹاگرام پر ایک غیر معمولی سیلفی ویڈیو جاری کرتے ہوئے طلبہ کی مشکلات پر افسوس کا اظہار کیا اور اصلاحی اقدامات کا وعدہ کیا، تاہم مظاہرین نے اسے ناکافی قرار دیا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امتحانی پرچوں کا معاملہ صرف ایک محرک ہے، اصل مسئلہ نوجوانوں میں بے روزگاری، مستقبل کے بارے میں بے یقینی اور مصنوعی ذہانت کے باعث روزگار کے مواقع کم ہونے کا خوف ہے۔ ماہرین کے مطابق پہلی مرتبہ مودی حکومت کے حامی سمجھے جانے والے نوجوانوں کی بڑی تعداد بھی حکومت پر کھل کر تنقید کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی وزیر اعظم مودی کا ایک اور جھوٹ بے نقاب، اراکین قومی اسمبلی کی رائے
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ سی جے پی فی الحال سیاسی جماعت نہیں، تاہم اپوزیشن جماعتیں اس تحریک کی حمایت کر رہی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر نوجوانوں کی یہ تحریک سیاسی شکل اختیار کر گئی تو 2029 کے عام انتخابات میں بھی بی جے پی کو سخت چیلنج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ انسٹاگرام نوجوان ووٹروں تک رسائی کا سب سے مؤثر سیاسی پلیٹ فارم بنتا جا رہا ہے۔













