امریکی ریاست کینٹکی سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن پارٹی کے سینئر رکنِ کانگریس تھامس میسی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ایران کے ساتھ لڑائی نے امریکی استحکام، معیشت اور اہم وسائل کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ایوانِ نمائندگان میں امریکی خارجہ پالیسی اور بیرونِ ملک جنگوں پر کھلے موقف کے لیے معروف تھامس میسی نے سماجی رابطے کی سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) پر اپنے بیان میں کہا کہ ’ایران کے ساتھ جنگ کی وجہ سے امریکا غیر معمولی طور پر کمزور ہو چکا ہے۔‘
ٹرمپ حکومت کی پالیسیوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انہوں نے مزید لکھا ’اس انتظامیہ نے ہمارا دفاعی میزائل نظام خالی کر دیا، پیٹرولیم کے ایمرجنسی ذخائر ختم کر دیے، ہمارے فوجیوں کی جانیں قربان کردیں، مہنگائی میں اضافہ کیا، قومی قرضے کا بوجھ بڑھایا اور اندرونی ضروریات کو یکسر نظر انداز کر دیا۔ اور یہ تمام تر اقدامات صرف اسرائیل کی خاطر کیے گئے۔‘
تھامس میسی کون ہیں؟
تھامس میسی امریکی ریاست کینٹکی سے ریپبلکن پارٹی کے نمائندے ہیں اور 2012ء سے امریکی ایوانِ نمائندگان کے رکن چلے آرہے ہیں۔
وہ ریپبلکن پارٹی میں لیبرٹیرین (آزاد خیال و محدود حکومتی مداخلت کے حمایتی) نقطہ نظر کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔ وہ ‘امریکا فرسٹ’ کی اس سوچ پر یقین رکھتے ہیں جو غیر ملکی تنازعات سے دور رہنے کی حامی ہے۔
یہ بھی پڑھیے ایران جنگ میں امریکی ہلاکتوں کی تعداد 17 ہو گئی، ٹرمپ مستقبل کی حکمتِ عملی پر خاموش
میسی امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے کو غیر ملکی جنگوں پر خرچ کرنے کے سخت خلاف ہیں۔ وہ کانگریس کے ان چند گنے چنے ارکان میں شامل ہیں جو اسرائیل کو دی جانے والی امریکی مالی و فوجی امداد کی مسلسل اور کھلم کھلا مخالفت کرتے رہے ہیں۔
The U.S. has been significantly weakened by the war with Iran.
This administration depleted our missile defenses, drained our oil reserves, sacrificed our men & women, inflated the price of consumer goods, increased our debt, and neglected our domestic needs…
all for Israel.
— Thomas Massie (@RepThomasMassie) July 26, 2026
اگرچہ ان کا تعلق ریپبلکن پارٹی ہی سے ہے، لیکن وہ بجٹ، غیر ملکی امداد اور جنگی اختیارات کے معاملے پر ڈونلڈ ٹرمپ اور اپنی ہی پارٹی کی قیادت پر بارہا تنقید کر چکے ہیں۔
تھامس میسی ان چند ریپبلکن ارکان میں سے تھے جنہوں نے کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران پر حملوں یا غیر ملکی ملٹری ایکشن پر صدر کے اختیارات کو محدود کرنے والی قراردادوں کی حمایت کی۔ ان کا موقف رہا ہے کہ امریکی آئین کے تحت جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے۔
یہ بھی پڑھیے کیا ٹرمپ ایران جنگ ہار رہے ہیں؟ 3ماہ بعد نئی بحث چھڑ گئی
اسرائیل کے لیے اربوں ڈالر کے ہنگامی امدادی پیکجز اور غیر ملکی ملٹری فنڈنگ پر جب بھی کانگریس میں ووٹنگ ہوئی، تھامس میسی نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا کو پہلے اپنے 34 ٹریلین (کھرب) ڈالر سے زائد کے قومی قرضے پر توجہ دینی چاہیے۔
میسی کی جانب سے پیٹرولیم کے اسٹریٹجک ذخائر کی ہلاکت اور ایئر ڈیفنس انٹرسیپٹرز (مثلاً پیٹریاٹ اور اے۔ایس۔ایم میزائلوں) کی کمی کا اشارہ، امریکی دفاعی اداروں (پینٹاگون) کے ان خدشات کی عکاسی کرتا ہے جن میں کہا جا رہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی طویل کشیدگی سے امریکہ کے اپنے دفاعی ذخائر پر اثر پڑ رہا ہے۔














