سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں گرفتار دہشتگرد کے بھرتی، تربیت اور کارروائیوں سے متعلق اہم انکشافات

پیر 27 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سیکیورٹی فورسز کے ایک آپریشن میں گرفتار دہشتگرد حبیب اللہ نے دورانِ تفتیش دہشتگرد نیٹ ورک، بھرتی کے طریقۂ کار، تربیت اور مختلف کارروائیوں سے متعلق اہم انکشافات کیے ہیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق گرفتار شخص کا تعلق ضلع خضدار کی تحصیل اورناچ کے علاقے سیراندوہ سے ہے۔ اس نے دعویٰ کیا کہ اسے جھوٹے وعدوں اور مالی لالچ دے کر دہشتگرد تنظیم میں شامل کیا گیا، جہاں ابتدا میں چنل دشت منتقل کرکے ذہن سازی کی گئی اور بعد ازاں سرگڑھ کیمپ میں عسکری تربیت دی گئی۔

مزید پڑھیں: تربت: فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد عثمان سے والدہ کا اعلانِ لاتعلقی

بیان کے مطابق سرگڑھ کیمپ میں اسلحہ چلانے، بارودی مواد استعمال کرنے، گھات لگا کر حملہ کرنے اور کارروائی کے بعد شناخت چھپانے اور فرار ہونے کے طریقے سکھائے گئے۔

گرفتار دہشتگرد نے دعویٰ کیا کہ وہ اسلحہ، گولہ بارود، دھماکا خیز مواد، خوراک اور ادویات مختلف گروہوں تک پہنچاتا رہا اور سنارو کیمپ، خضدار، نال اور بیلہ سمیت متعدد حملوں میں شریک رہا۔

اس کے مطابق ہر کارروائی سے قبل تنظیم کی جانب سے اسلحہ، ہدایات اور رابطوں کا انتظام کیا جاتا تھا، جبکہ ہر کارروائی کے عوض مالی معاوضہ بھی دیا جاتا تھا۔

اس نے مزید دعویٰ کیا کہ خضدار اور بیلہ میں حملوں کے بعد اسے 25 ہزار روپے معاوضہ ملا، جبکہ خضدار پولیس چیک پوسٹ پر حملے کے دوران فائرنگ سے 2 شہری جاں بحق ہوئے۔

مزید پڑھیں:بلوچستان: فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے 2 افراد کو اغوا کرلیا، ڈھائی کروڑ روپے تاوان طلب

گرفتار شخص کے مطابق اس کے متعدد ساتھی بے روزگاری کے باعث تنظیم میں شامل ہوئے، تاہم بعد میں تنظیم چھوڑنے کی کوشش کرنے والوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتی تھیں۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کیمپوں میں خوراک اور دیگر بنیادی سہولیات کا فقدان تھا اور ضروریات پوری کرنے کے لیے قریبی دیہات میں لوٹ مار کی جاتی تھی۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار دہشتگرد کے اعترافی بیان سے بلوچستان میں دہشتگردی کے مبینہ نیٹ ورک کے حوالے سے مزید شواہد حاصل ہوئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp