گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ پاکستان نے جولائی 2026 کے دوران 2.2 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی، جن میں چین کا 1.4 ارب ڈالر کا کمرشل قرض بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قرض کی چند ہفتوں میں دوبارہ فنانسنگ متوقع ہے، جبکہ سعودی عرب نے بھی پاکستان کے 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹس کو مزید تین سال کے لیے رول اوور کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے بدھ کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں شرکت کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت رواں مالی سال میں بیرونی قرضوں کی ادائیگی کا دباؤ کم کرنے اور زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے جولائی 2026 میں مجموعی طور پر 2.2 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے ادا کیے، جن میں چین کے 1.4 ارب ڈالر کے کمرشل قرض کی واپسی اور دیگر قرضوں کی مد میں تقریباً 80 کروڑ ڈالر شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چینی بینکوں کی جانب سے اس قرض کی دوبارہ فنانسنگ ابھی نہیں ہوئی، تاہم توقع ہے کہ یہ رقم چند ہفتوں کے اندر دوبارہ پاکستان کو فراہم کر دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب نے پاکستان کو دیے گئے 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹس کی مدت میں مزید 3 سال کی توسیع کر دی
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ رواں مالی سال 27-2026 کے دوران پاکستان کی بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی مجموعی ضرورت کم ہو کر 21.5 ارب ڈالر رہ گئی ہے، جو گزشتہ مالی سال میں 26.5 ارب ڈالر تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اس میں سے تقریباً 3.5 ارب ڈالر سود کی ادائیگی پر مشتمل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تقریباً 12 ارب ڈالر کے ڈپازٹس اور کمرشل قرضوں کی رول اوور یا ری فنانسنگ درکار ہوگی، جن میں سعودی عرب اور چین کے فنڈز بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق سعودی عرب نے پاکستان کے 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹس کو مزید تین سال کے لیے رول اوور کر دیا ہے، جس سے رواں مالی سال میں بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ کم ہوگا۔

جمیل احمد نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک نے گزشتہ 3 برسوں کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط بنانے کے لیے انٹربینک مارکیٹ سے مجموعی طور پر 28 ارب ڈالر خریدے، جن میں گزشتہ مالی سال کے دوران تقریباً 9 ارب ڈالر شامل تھے۔
انہوں نے کہا کہ 17 جولائی 2026 تک پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 22.6 ارب ڈالر تھے، جن میں سے 17.2 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک اور 5.4 ارب ڈالر کمرشل بینکوں کے پاس موجود تھے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ حکومت اور اسٹیٹ بینک کی موجودہ حکمت عملی کے باعث مالی سال کے باقی حصے میں بیرونی قرضوں کی ادائیگی کا دباؤ نسبتاً کم رہے گا۔














