بولیویا کے کلاؤڈ فاریسٹ میں جنگلی بلی کی ایک ایسی نئی قسم دریافت ہوئی ہے جسے ایک صدی سے زائد عرصے بعد پہلی بار کسی زندہ بلی کی نئی نوع کے طور پر باضابطہ طور پر شناخت کرکے ایک نام دیا گیا ہے۔
مقامی آبادی میں ’ٹلکایو‘ کے نام سے جانی جانے والی یہ بلی اس گروپ کا حصہ ہے جسے ٹائیگر کیٹس کہا جاتا ہے۔ یہ بلیاں جنوبی امریکا کے بیشتر حصوں میں پائی جاتی ہیں۔ ٹلکایو کو بولیویا کے سرسبز یُنگاس جنگل میں دریافت کیا گیا، جو ایک پہاڑی خطہ ہے جہاں جنگلات اکثر بادلوں سے ڈھکے رہتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق ٹلکایو کی لمبائی تقریباً 46 سینٹی میٹر اور وزن صرف ایک اعشاریہ چار کلوگرام ہے، جبکہ اس کی کھال ہلکے بھورے رنگ کی ہے جس پر بے قاعدہ شکل کے دھبے موجود ہیں۔ یہ مجموعی طور پر ایک گھریلو بلی سے بھی چھوٹی ہے۔
یہ بھی پڑھیے تھائی لینڈ میں نایاب جنگلی بلی 30 سال بعد دوبارہ نظر آ گئی
محققین نے جینیاتی ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے اس بات کا تعین کیا کہ یہ بلی ایک نئی نوع ہے۔ اس ننھی جنگلی بلی کو سائنسی نام Leopardus tilcayo دیا گیا ہے، جبکہ اس کا مقامی نام برقرار رکھا گیا ہے۔
نیشنل جیوگرافک ایکسپلورر اور تحقیق کی شریک مصنف پاؤلا نوگالس اسکارنس نے کرنٹ بائیولوجی جریدے میں جمعرات کو شائع ہونے والی تحقیق میں نئی شناخت شدہ نوع کی تفصیلات بیان کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نئی نوع کے بارے میں فی الحال بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔
کیمرہ ٹریپس سے حاصل ہونے والے شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بلی رات کے وقت زیادہ متحرک ہوتی ہے، جبکہ فضلے کے نمونوں میں ملنے والے چھوٹے چوہوں کی باقیات سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اس کی خوراک کا حصہ ہوسکتے ہیں۔
محققین نے جنوبی امریکا کے مختلف ممالک سے حاصل کیے گئے 38 جنگلی بلیوں کے نمونوں کا جینیاتی تجزیہ کیا، جن میں عجائب گھروں میں محفوظ 8 نمونے بھی شامل تھے۔ ڈی این اے تجزیے سے معلوم ہوا کہ ٹائیگر کیٹس دراصل 5 جینیاتی طور پر مختلف انواع پر مشتمل ہیں۔
تحقیق کے مطابق ٹلکایو کا نسب تقریباً 14 لاکھ سال پہلے دوسری ٹائیگر کیٹس سے الگ ہوگیا تھا، جسے سائنس دانوں نے اسے الگ نوع قرار دینے کے لیے اہم جینیاتی فرق قرار دیا ہے۔
تحقیق کی شریک مصنف پاؤلا نوگالس اسکارنس کے مطابق اس بلی کی کھال اور دیگر خصوصیات پہلے بیان کی گئی تفصیلات سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں، جو زیادہ تر برازیل میں پائی جانے والی بلیوں کی بنیاد پر مرتب کی گئی تھیں۔ اسی مشاہدے نے محققین کو یہ سوال اٹھانے پر مجبور کیا کہ بولیویا میں پائی جانے والی ٹائیگر کیٹ دراصل کون سی قسم ہے۔
محققین کے مطابق اس وقت صرف 2 زندہ ٹلکایو بلیوں کا براہ راست جائزہ لیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک 10 سالہ نر بلی بولیویا کے سینڈا ویرڈے وائلڈ لائف سینکچری میں محفوظ ہے، جسے اس سے قبل ایک مقامی خاندان اپنے گھر میں رکھتا تھا۔
یہ بھی پڑھیے کراچی کی پہاڑیوں پر نایاب جنگلی بلی ’کراکل‘ کی جھلک
تحقیق میں پیرو کے یُنگاس خطے میں ٹائیگر کیٹ کی ایک نئی نوع کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جسے Leopardus tigrinus antisuyo کا نام دیا گیا ہے۔
محققین نے اپنی دریافت انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (آئی یو سی این) کے ساتھ بھی شیئر کردی ہے تاکہ ٹائیگر کیٹس کی پانچوں جینیاتی اقسام کا الگ الگ تحفظاتی جائزہ لیا جاسکے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یُنگاس کے پہاڑی جنگلات کو جنگلات کی کٹائی، زرعی پھیلاؤ، انسانی سرگرمیوں سے لگنے والی آگ اور کان کنی سے خطرات لاحق ہیں۔ ان کے مطابق نئی دریافت اس حقیقت کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ دنیا میں اب بھی ایسی بہت سی انواع موجود ہیں جو دریافت ہونے سے پہلے ہی معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہوسکتی ہیں۔














