پاکستان کے بلند و بالا پہاڑی علاقوں میں سخت موسمی حالات، دشوار گزار راستوں اور محدود وسائل کے باوجود جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے خدمات انجام دینے والے فیلڈ رینجرز کو قومی سطح پر خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: باجوڑ میں تیندوے کو مارنے کا واقعہ کیوں اور کہاں پیش آیا؟
عالمی رینجرز ڈے کے موقع پر اسلام آباد میں منعقدہ پاکستان وائلڈ لائف پروٹیکشن ایوارڈز 2026 کی تقریب میں گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے 7 وائلڈ لائف محافظوں کو ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں قومی ایوارڈز سے نوازا گیا۔
تقریب میں ان رینجرز کی خدمات کو سراہا گیا جو برفانی چیتے (سنو لیپرڈ) کے قدرتی مسکن میں غیر قانونی شکار کی روک تھام، نایاب جنگلی حیات کے تحفظ اور انسانوں اور جنگلی جانوروں کے درمیان بڑھتے تنازعات کو کم کرنے کے لیے دور افتادہ پہاڑی علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
خیبرپختونخوا کے ضلع کوہستان سے تعلق رکھنے والے ڈپٹی رینجر گلباز خان کو 2026 کا قومی سنو لیپرڈ ایوارڈ دیا گیا۔ انہیں یہ اعزاز برفانی چیتے کی کھال کی غیر قانونی اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنانے اور جنگلی حیات کے تحفظ میں نمایاں کردار ادا کرنے پر دیا گیا۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں برفانی تیندوے سمیت کئی نایاب انواع کو موسمیاتی تبدیلی، غیر قانونی شکار، قدرتی مسکن کی تباہی اور انسانی سرگرمیوں کے باعث شدید خطرات لاحق ہیں۔ ایسے حالات میں مقامی رینجرز اور کمیونٹیز کا کردار حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیے: مظفرآباد، وائلڈ لائف نے پہاڑی نالے سے بیمار مادہ تیندوے کو ریسکیو کرلیا
اس سال پہلی مرتبہ ’عاشق احمد خان کمیونٹی بیسڈ کنزرویشن ایکسیلنس ایوارڈ‘ بھی متعارف کرایا گیا جس کا مقصد جنگلی حیات کے تحفظ میں مقامی آبادیوں کی خدمات کو سراہنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ قدرتی وسائل اور نایاب نسلوں کا مؤثر تحفظ صرف سرکاری اداروں ہی نہیں بلکہ مقامی کمیونٹیز کی فعال شمولیت سے ہی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
یہ پہلا کمیونٹی ایوارڈ اپر چترال کی زوندرانگرام ویلی کنزرویشن اینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کو دیا گیا جس نے مقامی سطح پر جنگلی حیات کے تحفظ، قدرتی ماحول کی حفاظت اور کمیونٹی شراکت داری کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ اور وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر شذرہ منصب کھرل نے کہا کہ پاکستان کے قدرتی ورثے اور نایاب جنگلی حیات کے تحفظ میں مقامی رینجرز اور کمیونٹیز کی خدمات قابلِ ستائش ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی ناگزیر ہے۔
مزید پڑھیں: اسلامک یونیورسٹی کے بعد نسٹ کے کیمپس میں بھی تیندوے کی انٹری
ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ ایسے ایوارڈز صرف اعزاز نہیں بلکہ ان افراد کی قربانیوں اور خدمات کا اعتراف بھی ہیں جو پاکستان کے پہاڑوں، جنگلات اور دور افتادہ علاقوں میں قدرتی ماحول اور نایاب جانوروں کے تحفظ کے لیے خاموشی سے اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
ان کے مطابق برفانی تیندوے سمیت دیگر نایاب انواع کا تحفظ نہ صرف حیاتیاتی تنوع بلکہ آنے والی نسلوں کے قدرتی مستقبل کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔













