بولی ووڈ اداکارہ یامی گوتم نے اپنے کیریئر کے مشکل ترین دور کو یاد کرتے ہوئے ایک ایسا انکشاف کیا ہے جو ان کے مداحوں کے لیے حیران کن ثابت ہو سکتا ہے۔
حالیہ ایک انٹرویو میں ‘حق’ فلم کی اداکارہ نے بتایا کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب انہوں نے بولی ووڈ میں کسی بامقصد موقع کی امید ہی چھوڑ دی تھی اور فلمی صنعت سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے قریب پہنچ گئی تھیں۔
کیریئر کے ابتدائی برسوں کی مشکلات
37 سالہ بھارتی اداکارہ نے انکشاف کیا کہ سال 2012 میں فلم ‘وکی ڈونر’ سے ایوشمان کھرانہ کے ساتھ اپنے فلمی سفر کا آغاز کرنے کے بعد انہیں برسوں تک اچھے کرداروں کے لیے انتظار کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں:انڈین اداکارہ سے ملاقات کے لیے جانیوالے پاکستانی نوجوان کو بھارتی فوج نے ’دہشتگرد‘ قرار دیدیا
اس دوران وہ کوئی قابل ذکر پراجیکٹ حاصل نہ کر سکیں، جس نے انہیں شدید مایوسی کا شکار کر دیا۔ اسی مایوسی کے عالم میں انہوں نے اداکاری کو خیرباد کہہ کر ہماچل پردیش میں اپنے آبائی گھر واپس جانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
View this post on Instagram
قسمت نے تاہم کچھ اور ہی سوچ رکھا تھا۔ عین اسی موقع پر انہیں 2019 کی جنگی ایکشن فلم ‘وری: دی سرجیکل اسٹرائیک’ میں وکی کوشل کے ساتھ کام کرنے کا موقع مل گیا، جس نے بولی ووڈ میں ان کے مستقبل کے حوالے سے نئی امیدیں جگا دیں۔
میں گھر واپس جانے کے لیے تیار تھی
اپنے کیریئر پر روشنی ڈالتے ہوئے یامی گوتم نے بتایا کہ ‘وکی ڈونر’ جیسی کامیاب فلم دینے کے باوجود انہیں ایک ‘غیر روایتی’ اداکارہ سمجھا جاتا تھا کیونکہ انہیں ایک عام ہیروئن کے طور پر لانچ نہیں کیا گیا تھا۔
فلم فیئر کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ ‘وری’ اور ‘بالا’ سے عین پہلے وہ ذہنی طور پر انڈسٹری چھوڑنے پر رضامند ہو چکی تھیں اور ہماچل پردیش میں اپنی فیملی کی زرعی زمین پر بالکل نئی زندگی شروع کرنے کا سوچ چکی تھیں۔
ان کے بقول ان کے والدین نے بھی اس فیصلے میں ان کا بھرپور ساتھ دیا اور صرف اتنا کہا کہ ‘گھر آ جاؤ’۔
View this post on Instagram
اداکارہ نے دلچسپ انداز میں بتایا کہ جیسے ہی انہوں نے خوف کے تحت انڈسٹری سے چمٹے رہنا چھوڑ دیا، ان کی قسمت نے پلٹا کھا لیا اور ‘وری’ اور ‘بالا’ جیسی فلموں نے راتوں رات ان کی زندگی بدل دی۔
باہر سے آنے والوں کو ثابت کرنا پڑتا ہے
یامی گوتم نے فلمی صنعت میں ‘آؤٹ سائیڈر’ ہونے کی حیثیت سے درپیش مشکلات کا بھی ذکر کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ فلمی خاندانوں سے تعلق رکھنے والے اداکاروں کو بڑے پراجیکٹس میں ناکام ہونے کے باوجود بار بار مواقع ملتے رہتے ہیں، جبکہ باہر سے آنے والوں کو ایک موقع حاصل کرنے کے لیے بھی برسوں جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔
‘آرٹیکل 370’ کی اداکارہ کے مطابق ان کے لیے سب سے مشکل بات انڈسٹری میں باہر سے آنا نہیں بلکہ ہر قدم پر خود کو ثابت کرتے رہنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ بعض اوقات وہ کسی موقع کے لیے مکمل طور پر تیار ہوتیں، لیکن وہ موقع کسی ایسے شخص کو مل جاتا جو پہلے ہی انڈسٹری کے ‘ایکو سسٹم’ کا حصہ ہوتا۔
تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ اب حالات بدل چکے ہیں اور آج کے سامعین اداکار کے پس منظر کی بجائے اس کی صلاحیت اور کام کو دیکھتے ہیں، جو نئی نسل کے لیے حوصلہ افزا بات ہے۔
ذاتی زندگی، عادتیہ دھر سے شادی
یامی گوتم نے 4 جون 2021 کو ‘وری: دی سرجیکل اسٹرائیک’ کے ہدایت کار عادتیہ دھر سے شادی کی تھی۔ یہ جوڑا 10 مئی 2024 کو اپنے بیٹے ویدوید کی پیدائش کے بعد سے مکمل خاندانی زندگی گزار رہا ہے۔
مزید پڑھیں:شاہ رخ خان و اہلیہ گوری کی محبت کی کہانی میں اداکارہ نیلم کا دلچسپ کردار
یامی گوتم بھارتی فلمی صنعت میں ان چند اداکاراؤں میں شمار ہوتی ہیں جنہوں نے فلمی خاندان سے تعلق نہ رکھنے کے باوجود اپنی محنت اور مستقل مزاجی سے مقام بنایا۔
‘وکی ڈونر’ سے 2012 میں فلمی سفر کا آغاز کرنے والی اداکارہ کو ابتدائی برسوں میں کرداروں کی کمی کا سامنا رہا، تاہم 2019 میں ‘وری: دی سرجیکل اسٹرائیک’ اور ‘بالا’ کی کامیابی نے ان کے کیریئر کا رخ یکسر بدل دیا۔
اس کے بعد سے یامی گوتم نے ‘اے تھرسڈے’، ‘آرٹیکل 370’ اور ‘حق’ جیسی فلموں میں اپنی اداکاری کی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور آج انہیں بولی ووڈ کی باصلاحیت ترین اداکاراؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔














