نیوزی لینڈ میں انگریزی کو سرکاری زبان کا درجہ مل گیا، ماؤری زبان کے حامی کیوں ناراض ہیں؟

پیر 3 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ نے ایک نیا قانون منظور کر لیا ہے جس کے تحت پہلی مرتبہ انگریزی کو باضابطہ طور پر ملک کی سرکاری زبان قرار دے دیا گیا ہے۔ تاہم اس فیصلے کے بعد ملک بھر میں نئی بحث چھڑ گئی ہے اور ماہرینِ لسانیات، قانونی ماہرین اور بعض سیاسی جماعتوں نے اس قانون کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے تنقید کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نیوزی لینڈ کے نائب وزیراعظم اور چینی نژاد رکنِ پارلیمنٹ کے درمیان سخت تکرار، سفارتی تنازع کھڑا ہو گیا

نئے قانون کے تحت انگریزی کو اب نیوزی لینڈ کی 2 دیگر سرکاری زبانوں، ٹی ریو ماؤری اور نیوزی لینڈ سائن لینگویج کے برابر سرکاری حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ ماؤری زبان کو سنہ 1987 کے ماؤری لینگویج ایکٹ کے تحت جبکہ نیوزی لینڈ سائن لینگویج کو 2006 میں سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا تھا۔

قانون میں صرف ایک مختصر جملہ شامل کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انگریزی نیوزی لینڈ کی ایک سرکاری زبان ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون سے سرکاری اداروں، عدالتوں یا دیگر اداروں پر کوئی نئی قانونی ذمہ داری عائد نہیں ہوگی اور نہ ہی ماؤری زبان یا نیوزی لینڈ سائن لینگویج کو حاصل قانونی تحفظ یا حیثیت میں کوئی تبدیلی آئے گی۔

یہ قانون 30 جولائی 2026 کو نافذ ہوا جس کے بعد اس پر تنقید کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا۔

شدید سیاسی بحث

پارلیمنٹ میں اس بل پر گرما گرم بحث ہوئی۔ حکومت اور بل کے حامی ارکان کا مؤقف تھا کہ اس قانون سے انگریزی زبان کی آئینی حیثیت واضح ہوگی اور عوام سے کیے گئے ایک جمہوری وعدے کی تکمیل ہوگی۔

دوسری جانب گرین پارٹی اور تے پاتی ماؤری سمیت اپوزیشن جماعتوں اور متعدد ماہرینِ لسانیات نے اس قانون کو غیر ضروری اور معاشرے میں تقسیم پیدا کرنے والا اقدام قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ میں انگریزی پہلے ہی اکثریتی زبان ہے اور اسے کبھی بھی اپنی حیثیت کھونے کا خطرہ لاحق نہیں رہا اس لیے ایسے قانون کی کوئی عملی ضرورت نہیں تھی۔

ماہرین اور وزارت انصاف کے تحفظات

اگرچہ نیوزی لینڈ کی تقریباً 95 فیصد آبادی روزمرہ زندگی میں انگریزی استعمال کرتی ہے لیکن اب تک اسے کسی قانون کے ذریعے سرکاری زبان قرار نہیں دیا گیا تھا بلکہ یہ عملاً ملک کی بنیادی زبان کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے۔

مزید پڑھیے: نیوزی لینڈ میں پہلی بار مقامی پرندے میں مہلک برڈ فلو ایچ 5 این ون کی تصدیق

قانون کے ناقدین میں شامل بعض ماہرینِ لسانیات اور قانونی ماہرین نے اس اقدام کو افسوسناک اور غیر ضروری قرار دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق نیوزی لینڈ کی وزارتِ انصاف نے بھی ارکانِ پارلیمنٹ کو مشورہ دیا تھا کہ یہ بل منظور نہ کیا جائے کیونکہ اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ انگریزی زبان کی حیثیت یا استعمال کو کسی قسم کا خطرہ لاحق ہے۔

وزارت کے مطابق ماؤری زبان اور نیوزی لینڈ سائن لینگویج کو سرکاری درجہ اس لیے دیا گیا تھا تاکہ ان لسانی اقلیتوں کے حقوق اور زبانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

حکومت اور اپوزیشن کی حمایت

اس کے باوجود حکمران اتحادی جماعتوں اور بڑی اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی نے بل کی حمایت کی جبکہ گرین پارٹی اور تے پاتی ماؤری نے اس کی مخالفت کی۔

بل کا سیاسی پس منظر

یہ بل حکمران نیشنل پارٹی اور اس کی اتحادی جماعت نیوزی لینڈ فرسٹ کے درمیان ہونے والے حکومتی معاہدے کا حصہ تھا۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور نیوزی لینڈ کا تجارت، سرمایہ کاری اور کھیلوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

نیوزی لینڈ فرسٹ کے رہنما ونسٹن پیٹرز طویل عرصے سے ماؤری برادری کے لیے خصوصی سرکاری اقدامات اور مراعات پر تنقید کرتے رہے ہیں اور مبصرین کے مطابق انگریزی کو سرکاری زبان قرار دینے کا فیصلہ بھی اسی سیاسی پس منظر سے جڑا ہوا ہے۔

واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کے مقامی باشندوں کو ماؤری (Māori) کہا جاتا ہے جو صدیوں قبل بحرالکاہل کے جزائر سے یہاں آ کر آباد ہوئے تھے۔ ٹی ریو ماؤری (Te Reo Māori) ان کی روایتی اور تاریخی زبان ہے جو نیوزی لینڈ کی ثقافتی شناخت کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ انگریزی ملک کی غالب زبان بن گئی اور ماؤری زبان کا استعمال نمایاں طور پر کم ہو گیا۔ اسی وجہ سے حکومت نے سنہ 1987 میں ماؤری زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دیا تاکہ اس کے تحفظ، فروغ اور آنے والی نسلوں تک اس کی منتقلی کو یقینی بنایا جا سکے۔ بعد ازاں سنہ 2006 میں نیوزی لینڈ سائن لینگویج کو بھی سرکاری زبان قرار دیا گیا تاکہ سماعت سے محروم افراد کے لسانی حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔

اسی پس منظر میں بعض ماہرین اور سیاسی جماعتوں کا مؤقف ہے کہ چونکہ انگریزی پہلے ہی ملک کی اکثریتی اور عملی طور پر سب سے زیادہ استعمال ہونے والی زبان ہے اس لیے اسے الگ سے سرکاری زبان قرار دینے کی ضرورت نہیں تھی۔

یہ بھی پڑھیے: نیوزی لینڈ کے فاسٹ بولر نے 5 گیندوں میں 5 وکٹیں حاصل کرکے تاریخ رقم کردی

یہاں ایک بات اور قابل ذکر ہے کہ نیوزی لینڈ میں رائج ایک اور زبان نیوزی لینڈ سائن لینگویج (این زیڈ ایس ایل) سماعت سے محروم اور گونگے افراد کی اشاروں پر مبنی زبان ہے جس کے اپنے مخصوص اشارے، قواعدِ زبان اور جملوں کی ساخت موجود ہے۔ اسے عام اشاروں یا جسمانی حرکات سے مختلف ایک مکمل زبان تسلیم کیا جاتا ہے جس کے ذریعے ہزاروں افراد روزمرہ زندگی، تعلیم اور سرکاری معاملات میں رابطہ کرتے ہیں۔

نیوزی لینڈ نے سنہ 2006 میں نیوزی لینڈ سائن لینگویج کو سرکاری زبان کا درجہ دیا تھا تاکہ سماعت سے محروم افراد کو تعلیم، عدالتوں، سرکاری دفاتر اور دیگر عوامی خدمات تک مساوی رسائی حاصل ہو سکے۔ اس فیصلے کا مقصد ان کے لسانی اور شہری حقوق کا تحفظ بھی تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ نیوزی لینڈ سائن لینگویج ماؤری زبان کی طرح قدیم مقامی زبان نہیں بلکہ وقت کے ساتھ بہرے افراد کی برادری میں ارتقا پانے والی ایک جدید اشاروں کی زبان ہے۔ اس کی جڑیں بڑی حد تک برطانوی سائن لینگویج (برٹس سائن لینگویج) سے ملتی ہیں تاہم وقت کے ساتھ اس نے اپنی الگ شناخت اور منفرد اشارے بھی اختیار کر لیے ہیں۔

مزید پڑھیں: نیوزی لینڈ کرکٹ کے سنہری دور کا اختتام، کین ولیمسن نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا

ان کے مطابق یہ اقدام زیادہ تر علامتی اور سیاسی نوعیت کا ہے جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون سے ماؤری اور نیوزی لینڈ سائن لینگویج کی قانونی حیثیت یا حقوق پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp