نیوزی لینڈ کرکٹ کے سنہری دور کا اختتام، کین ولیمسن نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا

جمعہ 12 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نیوزی لینڈ کے مایہ ناز بلے باز کین ولیمسن نے فوری طور پر بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے، جس کے ساتھ ہی تقریباً 16 سال پر محیط ایک شاندار کیریئر اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔

378 بین الاقوامی میچز میں نیوزی لینڈ کی نمائندگی کرنے والے ولیمسن نے یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا ہے جب ان کی ٹیم انگلینڈ کے دورے پر موجود ہے اور 3 ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 1-0 سے پیچھے ہے۔

لارڈز میں کھیلا گیا پہلا ٹیسٹ ان کے بین الاقوامی کیریئر کا آخری میچ ثابت ہوا، جبکہ وہ سیریز کے باقی میچوں میں حصہ نہیں لیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: مستقبل کے ‘فیب فائیو’ کون ہوں گے؟ کین ولیمسن نے بتا دیا

نیوزی لینڈ کرکٹ کی جانب سے جاری بیان میں کین ولیمسن نے کہا کہ وہ کافی عرصے سے اس فیصلے پر غور کر رہے تھے، تاہم گزشتہ چند روز کے دوران انہیں محسوس ہوا کہ اب ریٹائرمنٹ کا یہی مناسب وقت ہے۔

‘بین الاقوامی کرکٹ کے لیے میرے اندر ہمیشہ جذبہ اور جیتنے کی بھوک موجود رہی ہے۔ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں نے نیوزی لینڈ کے لیے کھیلے گئے ہر میچ میں اپنی تمام تر صلاحیتیں جھونک دیں۔’

ولیمسن کا کہنا تھا کہ اگر وہ مکمل عزم اور توانائی کے ساتھ ٹیم کی نمائندگی نہ کر سکیں تو کھیل جاری رکھنا درست نہیں ہوگا، انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ وہ اپنی شرائط پر اس سفر کا اختتام کر رہے ہیں۔

سابق کپتان نے نیوزی لینڈ ٹیم کے مستقبل کے حوالے سے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ اسکواڈ میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور کھلاڑی کچھ خاص حاصل کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔

’یہ وہ ٹیم ہے جس سے میں بے حد محبت کرتا ہوں اور خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ اتنے طویل عرصے تک اس کا حصہ رہا۔ یہ ٹیم ہمیشہ میرے دل کے قریب رہے گی۔‘

نیوزی لینڈ کے ہیڈ کوچ روب والٹر نے ولیمسن کو ایک غیر معمولی کھلاڑی اور شاندار انسان قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ ذاتی مفاد پر ٹیم کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: زخمی کین ولیمسن کے جذبے اور محنت نے کسے چونکایا؟

ان کے مطابق ولیمسن نہ صرف ایک عظیم بلے باز بلکہ بہترین ساتھی، کامیاب قائد اور کرکٹ کے بہترین سفیر بھی تھے۔

نیوزی لینڈ کے سابق کپتان اور ٹیسٹ کرکٹ میں ملک کے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے سر رچرڈ ہیڈلی نے بھی ولیمسن کو خراج تحسین پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ ولیمسن اپنے دور کے بہترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں اور تینوں فارمیٹس میں اپنی صلاحیتوں کو مسلسل بہتر بنانے کے لیے سخت محنت کرتے رہے۔

 

کین ولیمسن نے نومبر 2010 میں بھارت کے خلاف احمد آباد ٹیسٹ میں سنچری کے ساتھ اپنے بین الاقوامی کیریئر کا آغاز کیا تھا۔

انہوں نے اپنے کیریئر کا اختتام نیوزی لینڈ کے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز کے طور پر کیا، جہاں انہوں نے تینوں فارمیٹس میں مجموعی طور پر 19 ہزار 346 رنز اور 48 سنچریاں اسکور کیں۔

ٹیسٹ کرکٹ میں انہوں نے 110 میچز میں 9 ہزار 515 رنز بنائے، جن میں 33 سنچریاں اور 38 نصف سنچریاں شامل ہیں، جبکہ ان کی اوسط 54.06 رہی۔

ایک روزہ کرکٹ میں انہوں نے 175 میچز میں 7 ہزار 256 رنز اسکور کیے، جن میں 15 سنچریاں اور 47 نصف سنچریاں شامل تھیں۔

مزید پڑھیں: کیوی بلے باز کین ولیمسن انجری کے باعث ون ڈے ورلڈ کپ سے باہر ہوگئے

ولیمسن نے نیوزی لینڈ کی قیادت 40 ٹیسٹ، 91 ون ڈے اور 75 ٹی ٹوئنٹی میچز میں کی۔ ان کی قیادت میں نیوزی لینڈ 2019 کے ون ڈے ورلڈ کپ اور 2021 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل تک پہنچی۔

جبکہ 2021 میں بھارت کو شکست دے کر افتتاحی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا ٹائٹل بھی اپنے نام کیا۔

وہ نیوزی لینڈ کے لیے چھٹے سب سے زیادہ بین الاقوامی میچز کھیلنے والے کھلاڑی رہے، 4 مرتبہ سر رچرڈ ہیڈلی میڈل جیتا اور 2019 میں آئی سی سی مینز ٹیسٹ پلیئر آف دی ایئر کا اعزاز بھی حاصل کیا۔

کین ولیمسن کی ریٹائرمنٹ کے بعد وہ آئندہ برس جنوبی افریقا، زمبابوے اور نمیبیا میں ہونے والے ون ڈے ورلڈ کپ میں بھی نیوزی لینڈ کی نمائندگی نہیں کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp