اقوام متحدہ کے آزاد انسانی حقوق کے ماہرین نے کینیڈا پر زور دیا ہے کہ سکھ کارکن مونندر سنگھ اور ان کے اہلخانہ کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں کیونکہ کینیڈین حکام متعدد بار انہیں جان کو لاحق سنگین خطرات سے آگاہ کر چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں مقیم سکھ رہنما گرپتونت سنگھ کے قتل کی سازش، بھارتی شہری نکھل گپتا نے اعتراف کرلیا
اقوام متحدہ کے 5 آزاد ماہرین کی جانب سے 3 جون کو لکھا گیا خط، جو اس ہفتے معمول کے طریقہ کار کے تحت عوامی کیا گیا میں کہا گیا ہے کہ منیندر سنگھ کو سال 2022 سے اب تک کینیڈین حکام کی جانب سے 4 مرتبہ ’ڈیوٹی ٹو وارن‘ نوٹس جاری کیے گئے، جن میں انہیں قابل اعتماد اور فوری نوعیت کے جان لیوا خطرات سے خبردار کیا گیا۔
خط میں ماہرین نے کینیڈا سے مطالبہ کیا کہ وہ نہ صرف مونندر سنگھ بلکہ ان کے اہلخانہ اور ایسے دیگر افراد کی حفاظت بھی یقینی بنائے جنہیں اسی نوعیت کے خطرات کا سامنا ہے۔
انہوں نے حکام پر زور دیا کہ ان دھمکیوں کی تحقیقات تیز کی جائیں، ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
بھارت کو بھی خط کی نقل ارسال
یہ خط اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی و انسانی حقوق، پرامن اجتماع کی آزادی، انسانی حقوق کے محافظوں، مذہبی آزادی اور جمہوری عالمی نظام کے فروغ سے متعلق خصوصی ماہرین نے مشترکہ طور پر تحریر کیا ہے۔ اقوام متحدہ نے اس خط کی ایک نقل بھارتی حکومت کو بھی ارسال کی ہے۔
مزید پڑھیے: کینیڈا کے وزیراعظم کارنی نے ملکی خودمختاری قربان کردی، گرپتونت سنگھ پنوں
نجر قتل کے بعد معاملہ عالمی توجہ کا مرکز بنا
یہ معاملہ سنہ 2023 میں کینیڈا میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے بعد عالمی سطح پر نمایاں ہوا تھا۔ اس وقت کے کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے عوامی طور پر دعویٰ کیا تھا کہ اس قتل میں بھارتی عناصر کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات شدید کشیدہ ہو گئے تھے اور سنہ 2024 میں دونوں جانب سے سفارت کاروں کو ملک بدر بھی کیا گیا۔
بعد ازاں وزیراعظم مارک کارنی کے دور میں کینیڈا اور بھارت کے تعلقات میں بہتری آئی اور دونوں ممالک نے اعلیٰ سطح کے روابط بحال کرنے کے ساتھ اقتصادی تعاون کو بھی فروغ دینا شروع کیا۔
منندر سنگھ کا ردعمل
آزاد سکھ ریاست خالصتان کے حامی منیندر سنگھ نے اقوام متحدہ کی مداخلت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ خط سکھ کارکنوں کو درپیش سیکیورٹی خدشات کا ایک اہم اعتراف ہے۔
مزید پڑھیں: آزاد سکھ ریاست بناکر رام مندر کی جگہ بابری مسجد تعمیر کریں گے، گرپتونت سنگھ پنوں
انہوں نے کہا کہ وہ جان کو لاحق خطرات کے باوجود اپنی جدوجہد پرامن اور قانونی طریقے سے جاری رکھیں گے۔














