وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کی جانب سے یومِ آزادی کے موقع پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کردہ ایک نغمہ جاری کیے جانے پر سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔
احسن اقبال نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر نغمہ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ پاکستان کے نوجوانوں کے نام ہے، جو ملک کے مستقبل کے معمار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ نغمہ علامہ محمد اقبال کے فلسفہ خودی اور شاہین کے تصور سے متاثر ہو کر تیار کیا گیا ہے، جس کا مقصد نوجوانوں میں خوداعتمادی، کردار، علم اور اپنی صلاحیتوں پر یقین پیدا کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یومِ پاکستان پر آئی ایس پی آر نے نیا ملی نغمہ جاری کردیا
یہ نغمہ وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات اور اس کے’اڑان پاکستان‘ پروگرام کے تحت جاری کیا گیا، جو حکومت کے قومی اقتصادی تبدیلی کے منصوبے کے مختلف منصوبوں اور اصلاحات کو اجاگر کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ علامہ اقبال کے شاہین کے تصور میں اعلیٰ معیار، محنت اور تخلیقی صلاحیت پر زور دیا گیا ہے، جبکہ سرکاری ادارے کی جانب سے نغمہ اور ویڈیو مصنوعی ذہانت سے تیار کرانا پاکستانی فنکاروں، موسیقاروں اور تخلیق کاروں کی صلاحیتوں سے صرفِ نظر کے مترادف ہے۔
My dear young Pakistanis,
As we celebrate the 79th Independence Day of our beloved homeland, I am delighted to launch this inspirational song dedicated to the youth of Pakistan—the architects of our nation’s future.
Inspired by the timeless philosophy of Allama Muhammad Iqbal,… pic.twitter.com/Jz9Dgvwm8L— Ahsan Iqbal (@betterpakistan) August 3, 2026
تنقید کرنے والوں نے یاد دلایا کہ 2022 میں حکومت نے قومی ترانے کا نیا ورژن جاری کیا تھا، جس میں ملک بھر سے مختلف زبانوں، ثقافتوں اور خطوں سے تعلق رکھنے والے گلوکاروں اور موسیقاروں کو شامل کیا گیا تھا، اور اسے قومی تنوع کی بہترین مثال قرار دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: یوم یکجہتی کشمیر: آئی ایس پی آر کا نیا نغمہ ’کشمیر بنے گا پاکستان‘ جاری
احسن اقبال نے اپنے پیغام میں کہا کہ آج پاکستان کو ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو مایوسی کے بجائے امید، جمود کے بجائے جدت اور بہانوں کے بجائے محنت کا راستہ اختیار کریں، جبکہ ’اڑان پاکستان‘ کے تحت علم، ٹیکنالوجی، کاروباری مواقع اور ترقی پر مبنی مستقبل کی بنیاد رکھی جارہی ہے۔
دوسری جانب ناقدین کا مؤقف ہے کہ اگر حکومت نوجوانوں کو محنت اور تخلیقی صلاحیتوں کی تلقین کر رہی ہے تو قومی نوعیت کے منصوبوں میں مصنوعی ذہانت پر انحصار کرنے کے بجائے مقامی فنکاروں، موسیقاروں اور ویڈیو سازوں کو موقع دینا چاہیے تھا۔
مضمون میں عالمی سطح پر بھی مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال پر ہونے والی تنقید کا حوالہ دیا گیا ہے۔ متعدد معروف فنکاروں اور تخلیق کاروں کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے موسیقی، تحریر اور فن پاروں کی تخلیق انسانی فنکاروں کے روزگار اور تخلیقی حقوق کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یومِ آزادی معرکہ حق کا جوشیلہ ملی نغمہ ’منہ توڑ‘ جاری
پاکستانی اداکارہ ہیرا ترین کا بھی حوالہ دیا گیا، جنہوں نے حال ہی میں فنکاروں کو خبردار کیا تھا کہ وہ معاہدوں پر دستخط کرتے وقت محتاط رہیں، کیونکہ بعض ادارے ان کی ڈیجیٹل شناخت اور آواز کے استعمال کے حقوق حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
مضمون کے اختتام پر رائے دی گئی ہے کہ یومِ آزادی کے موقع پر حکومت کو مصنوعی ذہانت کے بجائے پاکستانی فنکاروں، موسیقاروں اور تخلیق کاروں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا چاہیے تھا۔














