بیرونی ممالک سے لوٹنے پر کچھ لوگ لہجہ، لباس اور عادتیں کیوں بدل لیتے ہیں؟

منگل 4 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بیرون ملک سفر سے واپسی پر لوگ عموماً تصاویر، تحائف یا یادگار اشیا اپنے ساتھ لاتے ہیں لیکن بعض افراد ایسی تبدیلیوں کے ساتھ بھی واپس آتے ہیں جو دوسروں کو فوراً محسوس ہونے لگتی ہیں۔ کوئی نئے لہجے میں بات کرنے لگتا ہے، کوئی لباس کا انداز بدل لیتا ہے جبکہ کچھ لوگ مقامی الفاظ، اشاروں یا رسم و رواج کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسپین کا وہ ننھا گاؤں جہاں ایک ہی رات میں 2 بار غروب آفتاب دکھائی دے گا

یہ رجحان صرف یورپ یا امریکا تک محدود نہیں۔ پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں دیکھا گیا ہے کہ لوگ ترکی، برطانیہ، خلیجی ممالک، یورپ یا مشرقِ بعید کی سیر سے واپس آ کر بعض اوقات مقامی انداز گفتگو، لباس یا رویوں سے اس قدر متاثر ہو جاتے ہیں کہ وہ ان کی شخصیت کا حصہ بننے لگتے ہیں۔

ماہرین نفسیات اور سماجی علوم کے مطابق اس کی وجہ صرف دکھاوا نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے انسانی نفسیات، ثقافتی وابستگی اور سماجی رویوں سے متعلق کئی دلچسپ عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔

ایک سفر جس نے شخصیت بدل دی

امریکی مصنف نے اپنی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وہ نوجوانی میں چند برس جمہوریہ چیک کے دارالحکومت پراگ میں مقیم رہے۔ وطن واپس آئے تو صرف ان کا پتا ہی نہیں بدلا تھا بلکہ ان کا لباس، بالوں کا انداز اور بولنے کا لہجہ بھی پہلے سے مختلف ہو چکا تھا۔

مزید پڑھیے: سکون، سادگی اور فطرت کا سنگم: نارڈک ممالک کے سمر کیبن کیوں دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں؟

انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کے اہلخانہ کو یہ تبدیلی بالکل پسند نہیں آئی اور بعد میں خود انہیں بھی احساس ہوا کہ شاید وہ غیر ضروری طور پر اپنی نئی شناخت ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

سفر صرف یادیں نہیں، رویے بھی بدل دیتا ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ سفر انسان پر گہرے اثرات چھوڑ سکتا ہے۔ نئی ثقافتوں، زبانوں، کھانوں اور طرزِ زندگی سے واقفیت بعض افراد میں اس قدر گہرا تاثر پیدا کرتی ہے کہ وہ ان چیزوں کو اپنی روزمرہ زندگی میں بھی اپنانا شروع کر دیتے ہیں۔

اسی لیے کچھ لوگ چند دن اٹلی میں گزارنے کے بعد بات کرتے ہوئے ہاتھوں کے اشارے زیادہ استعمال کرنے لگتے ہیں جبکہ کچھ افراد فرانس، برطانیہ یا اسپین سے واپس آ کر وہاں کے مخصوص تلفظ یا الفاظ اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

لہجہ اپنانا غیر معمولی بات نہیں

تحقیقی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ انسان غیر شعوری طور پر بھی اپنے اردگرد موجود لوگوں کے اندازِ گفتگو کی نقل کرنے لگتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر کوئی شخص کسی مخصوص ماحول میں کچھ عرصہ گزارے تو اس کا لہجہ، تلفظ یا گفتگو کا انداز خود بخود متاثر ہو سکتا ہے، اور یہ ایک قدرتی انسانی رویہ ہے۔

یادوں کو زندہ رکھنے کی خواہش

سفر کی نفسیات پر تحقیق کرنے والی ماہر نفسیات ڈاکٹر شارلٹ رسل کے مطابق بعض افراد کسی جگہ یا ثقافت سے جذباتی وابستگی محسوس کرتے ہیں اور وطن واپسی کے بعد بھی اس تعلق کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

ان کے مطابق بعض اوقات کوئی لفظ، سلام کا انداز یا چھوٹی سی روایت انسان کو اپنے سفر کی یاد دلاتی رہتی ہے اسی لیے وہ اسے محدود مواقع پر استعمال کرتا ہے۔

ڈاکٹر رسل نے اپنی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ انہیں یونانی زبان کا لفظ ’پاراکالو‘ُ بہت پسند ہے جو بظاہر ’براہِ کرم‘ کے معنی دیتا ہے لیکن یونان میں اسے شائستگی اور دوسروں کی مدد کی پیشکش کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: طویل فضائی سفر کے بعد ’جیٹ لیگ‘ جسم پر کیا اثرات ڈالتا ہے اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

وہ کہتی ہیں کہ وہ یہ لفظ صرف یونان میں یا اپنے یونانی دوستوں کے ساتھ استعمال کرتی ہیں کیونکہ اس سے انہیں اس ثقافت سے اپنی وابستگی کا احساس ہوتا ہے۔

بعض لوگ دوسروں کو متاثر کرنا بھی چاہتے ہیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر شخص ایسا صرف جذباتی وابستگی کی وجہ سے نہیں کرتا۔

ڈاکٹر شارلٹ رسل کے مطابق بعض افراد غیر ملکی انداز، الفاظ یا لہجہ اس لیے بھی اپناتے ہیں تاکہ دوسروں کو یہ تاثر دیا جا سکے کہ وہ بہت زیادہ سفر کر چکے ہیں یا مختلف ثقافتوں سے گہری واقفیت رکھتے ہیں۔

بعض صورتوں میں اس رویے کے پیچھے دوسروں پر برتری ظاہر کرنے کی خواہش بھی موجود ہو سکتی ہے۔

ثقافت سے متاثر ہونے کی نفسیات

امریکا کی یونیورسٹی آف پوجٹ ساؤنڈ کے بشریات اور سماجیات کے پروفیسر گیریت بارکن کے مطابق بعض سیاح مقامی لوگوں کے طور طریقے احترام یا عقیدت کے اظہار کے طور پر اپناتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: دوران سفر متلی کی شکایت: ازالے کے لیے آئی فون کی ایک خفیہ سیٹنگ استعمال کرکے دیکھیں

وہ فرانسیسی فلسفی رینی ژیرار کے نظریے ’میمیٹک ڈیزائر‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ سفر کے دوران انسان صرف مقامی کھانے یا تاریخی مقامات سے لطف اندوز نہیں ہونا چاہتا بلکہ وہ غیر شعوری طور پر اس معاشرے کا حصہ بننے کی بھی خواہش رکھتا ہے۔

ان کے مطابق بعض لوگ مقامی لہجہ، لباس یا جسمانی حرکات کی نقل اس امید پر کرتے ہیں کہ شاید اس ثقافت کی خوبیاں بھی کسی حد تک ان کی شخصیت میں منتقل ہو جائیں۔

ہر ملک ایک جیسا اثر نہیں ڈالتا

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر ملک یا ثقافت یکساں طور پر لوگوں کو متاثر نہیں کرتی۔

پروفیسر بارکن کے مطابق بعض ممالک عالمی سطح پر ایک خاص سماجی یا ثقافتی وقار رکھتے ہیں جیسے برطانیہ، فرانس، اٹلی، یونان یا جاپان، اس لیے وہاں سے واپس آنے والے افراد ان ثقافتوں کی نقل زیادہ کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بعض اوقات لوگ اس نقل کے ذریعے مقامی افراد کو یہ احساس دلانا چاہتے ہیں کہ وہ اس معاشرے سے اچھی طرح واقف ہیں اور وہاں خود کو اجنبی نہیں سمجھتے۔

سوشل میڈیا نے رجحان مزید بڑھا دیا

ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا کے دور میں یہ رجحان مزید نمایاں ہو گیا ہے۔

مزید پڑھیں: چین کی غربت مٹاؤ مہم اور دیہی نشوونما، بیرونی ممالک بھی تقلید پر مجبور

اب بہت سے لوگ صرف مشہور سیاحتی مقامات ہی نہیں بلکہ نسبتاً کم معروف دیہی علاقوں یا مقامی ثقافتوں کی ویڈیوز اور تصاویر بھی شیئر کرتے ہیں، اور ان علاقوں کے الفاظ، کھانوں یا اندازِ زندگی کو اپنی شخصیت کا حصہ بنا کر دوسروں سے مختلف نظر آنے کی کوشش کرتے ہیں۔

پاکستانی بھی اس رجحان سے ناواقف نہیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان دنیا بھر میں پایا جاتا ہے اور پاکستانی بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ بیرونِ ملک تعلیم، ملازمت یا سیاحت سے واپس آنے والے بعض افراد غیر ملکی لہجے، مخصوص انگریزی تلفظ، مقامی الفاظ یا نئی طرز زندگی کو اپنی روزمرہ گفتگو اور عادات میں شامل کر لیتے ہیں۔

اگر یہ تبدیلی فطری انداز میں ہو تو یہ مختلف ثقافتوں سے سیکھنے اور ان کی قدر کرنے کی علامت ہو سکتی ہے تاہم اگر اسے محض دوسروں کو متاثر کرنے کے لیے اپنایا جائے تو بعض اوقات یہ مصنوعی محسوس ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق سفر انسان کی شخصیت کو نکھارنے، سوچ کو وسعت دینے اور مختلف ثقافتوں کو سمجھنے کا بہترین ذریعہ ہے لیکن اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ انسان نئی چیزوں سے سیکھے نہ کہ محض دوسروں پر اثر ڈالنے کے لیے مصنوعی انداز اپنائے۔

مزید پڑھیے: کھڑکیاں چمکانے کا ورلڈ کپ جہاں ہر سیکنڈ قیمتی ہوتا ہے

ان کے بقول اگر سفر انسان میں برداشت، احترام، وقت کی پابندی، صفائی، نظم و ضبط یا دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے جیسی مثبت عادات پیدا کرے تو یہی اس سفر کی سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ارشد ندیم لوزان ڈائمنڈ لیگ 2026 کے جیولین تھرو مقابلے میں شامل، نیراج چوپڑا سے مقابلہ ہوگا

نواز شریف سے گزارش ہے کہ مریم نواز کو کراچی بھیج دیں، شاید وہ شہر کو ٹھیک کردیں، وسیم اختر

الٹرا پراسیسڈ غذاؤں سے بچنے کے آسان طریقے، صحت بخش متبادل کونسے؟

حکومت کا گیس شعبے میں اصلاحات کا منصوبہ، سوئی کمپنیوں کی تقسیم اور نجکاری پر غور

محسن نقوی نئے صوبوں کا بیان دینے کے بعد کہاں غائب، نواز شریف نے پارٹی کو بیان دینے سے کیوں منع کیا؟

ویڈیو

محسن نقوی نئے صوبوں کا بیان دینے کے بعد کہاں غائب، نواز شریف نے پارٹی کو بیان دینے سے کیوں منع کیا؟

وی ایکسکلوسیو: محسن نقوی کے بیان سے مسلم لیگ ن کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں، انہوں نے غلط وقت پر غلط بیان دیا، عظمیٰ بخاری

ایئر انڈیا کی پرواز فضائی ہچکولوں کا شکار، 14 افراد زخمی

کالم / تجزیہ

پہلا دروازہ

خبردار، نظام اسی مہینے میں ری سیٹ ہوسکتا ہے

جاوید میانداد کی ایک ناقابل فراموش اننگز کا تذکرہ