بھارت کی ایک عدالت نے معروف تحقیقاتی جریدے تہلکہ کے شریک بانی اور سابق مدیر ترون تیج پال کو اپنی جونیئر خاتون ساتھی سے زیادتی کے مقدمے میں مجرم قرار دیتے ہوئے 10 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنا دی۔
63 سالہ ترون تیج پال پر الزام تھا کہ انہوں نے نومبر 2013 میں مغربی ساحلی ریاست گووا کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں منعقدہ تقریب کے دوران لفٹ میں اپنی جونیئر خاتون صحافی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
یہ مقدمہ منظر عام پر آنے کے بعد بھارت بھر میں توجہ کا مرکز بن گیا تھا اور صحافتی حلقوں سمیت مختلف شعبوں میں اس پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے اتر پردیش میں 33 بچوں سے زیادتی کیس: میاں بیوی کو سزائے موت
سال 2021 میں گووا کی ٹرائل کورٹ نے ترون تیج پال کو زیادتی، جنسی ہراسانی اور غیرقانونی طور پر روکنے کے الزامات سے بری کر دیا تھا، تاہم گووا حکومت نے اس فیصلے کو بمبئی ہائیکورٹ میں چیلنج کیا۔
ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے جمعرات کو ترون تیج پال کو 10 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی۔
گووا پولیس کی تفتیشی افسر سنیتا ساونت، جنہوں نے اس مقدمے کی تحقیقات کی قیادت کی، نے صحافیوں کو بتایا کہ عدالت نے ترون تیج پال کو 2 ہفتوں کے اندر خود کو قانون کے حوالے کرنے کی مہلت دی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ عدالت نے ملزم پر 5 ہزار 250 امریکی ڈالر کے مساوی جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے اداکارہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے کیس میں ملزمان کو 20 سال قید کی سزا
دوسری جانب ترون تیج پال نے سزا کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خلاف سپریم کورٹ آف انڈیا سے رجوع کریں گے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ’گزشتہ 13 برسوں سے مجھے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘














