انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی نے کینیڈا میں شدید جنگلاتی آگ کا خطرہ دگنا کر دیا، تحقیق

جمعہ 7 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ورلڈ ویدر ایٹریبیوشن (WWA) گروپ کی ایک نئی تحقیق کے مطابق انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی نے رواں سال کینیڈا میں لگنے والی تباہ کن جنگلاتی آگ کے لیے سازگار حالات پیدا ہونے کے امکانات کو تقریباً دوگنا کر دیا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جیواشم ایندھن (تیل، گیس اور کوئلہ) کے استعمال سے بڑھنے والے عالمی درجہ حرارت نے اونٹاریو اور شمال مغربی علاقوں میں جنگلاتی آگ کے لیے موزوں موسم پیدا کیا، جہاں شدید آگ کے باعث ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا جبکہ دھواں کینیڈا کے علاوہ امریکہ کے بعض علاقوں تک بھی پھیل گیا۔

مزید پڑھیں:امریکا، یونان اور فرانس میں جنگلاتی آگ بے قابو، ہزاروں افراد محفوظ مقامات پر منتقل

محققین کے مطابق اس وقت کینیڈا بھر میں قریباً 700 جنگلاتی آگ کے واقعات فعال ہیں، جبکہ اب تک لگ بھگ 38 لاکھ ہیکٹر رقبہ جل چکا ہے، جس کا زیادہ تر حصہ شمالی جنگلات پر مشتمل ہے۔

تحقیق کے مطابق اگر انسانی سرگرمیوں سے موسمیاتی تبدیلی نہ ہوتی تو اس نوعیت کے موسمی حالات اوسطاً 40 سال میں ایک بار پیدا ہوتے، لیکن اب یہ حالات کہیں زیادہ عام ہوتے جا رہے ہیں۔

تحقیق میں شامل ماہر تھیوڈور کیپنگ نے کہا کہ مختلف علاقوں میں ایک ساتھ آگ کا پھیلنا تشویشناک ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف حفاظتی اقدامات کافی نہیں، بلکہ موسمیاتی تبدیلی کی بنیادی وجوہات پر قابو پانا بھی ضروری ہے۔

مزید پڑھیں:فرانس اور اسپین میں جنگلاتی آگ مزید پھیل گئی، ساڑھے 3 لاکھ افراد متاثر

ایک اور محقق فریڈریکے اوٹو نے کہا کہ مسلسل ہونے والی تحقیقات یہی ثابت کر رہی ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی بے قابو اور غیر معمولی جنگلاتی آگ کی ایک بڑی وجہ بن چکی ہے۔

ادھر کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا سمیت مختلف علاقوں میں جنگلاتی آگ اب بھی بھڑک رہی ہے، جہاں خطرناک صورتحال کے باعث ہزاروں افراد کو انخلا کے احکامات پر عمل کرنا پڑ رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp