وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر میں جاری اصلاحات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس ہوا، جس میں وزیراعظم نے اصلاحات پر عملدرآمد مزید تیز کرنے اور مقررہ ریونیو ہدف کے حصول کے لیے انفورسمنٹ اقدامات مؤثر بنانے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے کاروباری برادری کے ٹیکس اصلاحات پر بڑھتے اعتماد کا خیرمقدم کرتے ہوئے ہدایت کی کہ چیئرمین ایف بی آر اور سینئر افسران ہر ماہ کراچی کے ساتھ لاہور میں بھی 2 روز قیام کریں اور کاروباری برادری کے مسائل حل کریں۔
مزید پڑھیں:سینیٹ کمیٹی کا ایف بی آر سے تمباکو شعبے کے 1120 ارب روپے کے ٹیکس ڈیٹا کی تفصیلات طلب
انہوں نے اسمگلنگ، ٹیکس چوری اور غیر قانونی کاروبار کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے اور ایف بی آر کی حساس پوسٹوں پر اچھی شہرت کے حامل، ایماندار اور اہل افسران و اہلکار تعینات کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ اے آئی اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی فیس لیس ان لینڈ ریونیو نظام کا پہلا مرحلہ یکم اکتوبر 2026 سے فعال ہوگا، جبکہ مکمل نظام 2027 تک رول آؤٹ کیا جائے گا۔ نظام کے تحت ٹیکس کیسز کا دائرہ اختیار جغرافیائی حدود کے بجائے رینڈم بنیادوں پر مختص ہوگا۔
ایف بی آر اصلاحات تیز، فیس لیس ٹیکس نظام کا پہلا مرحلہ یکم اکتوبر سے فعال ہوگا:وزیراعظم نے چکوال اور صوابی میں غیر قانونی سگریٹ فیکٹریوں کے خلاف ایف بی آر کارروائیوں کو سراہا۔ صوابی،چکوال میں فیکٹری سیل کرکے غیر قانونی سگریٹ کا ذخیرہ اور مشینری قبضے میں لے لی گئی۔@AbidJamalQazi pic.twitter.com/hSW29uDlYK
— Media Talk (@mediatalk922) August 10, 2026
وزیراعظم نے چکوال اور صوابی میں غیر قانونی سگریٹ فیکٹریوں کے خلاف ایف بی آر کی انٹیلیجنس بیسڈ کارروائیوں کو سراہا۔ بریفنگ کے مطابق چکوال میں فیکٹری سیل کرکے غیر قانونی سگریٹ کا ذخیرہ اور مشینری قبضے میں لے لی گئی، جبکہ صوابی میں بھی کارروائی کی گئی۔
چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ کراچی میں 7 بڑے تجارتی اداروں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کرکے ان کے مسائل فوری حل کیے گئے، جبکہ برآمد کنندگان کے ٹیکس ریفنڈز کے لیے ٹائم باؤنڈ ایس او پیز جاری کیے جارہے ہیں۔
مزید پڑھیں:کابینہ کی منظوری کے بغیر ٹیکس دہندگان کا ڈیٹا نہیں دے سکتے، ایف بی آر
اجلاس میں وفاقی وزرا اعظم نذیر تارڑ، مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، شزا فاطمہ خواجہ، معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔














