پاکستان کے سینئر اداکار اور ڈرامہ نویس محمد احمد نے حال ہی میں چہرے کی خوبصورتی اور جلد کو مزید ٹائٹ کرنے کے لیے فیس لفٹ کروایا ہے۔
حال ہی میں محمد احمد نے ایک ایستھیٹکس کلینک کا دورہ کیا جہاں انہوں نے تھریڈ لفٹ کروائی۔ اس کے ذریعے چہرے کی جلد کو لفٹ اور ٹائٹ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
View this post on Instagram
طریقۂ علاج سے قبل ڈاکٹر نے محمد احمد کے چہرے کا معائنہ کیا اور ان مقامات کی نشاندہی کی جہاں لفٹنگ کی جانی تھی۔ اس دوران اس بات کا بھی جائزہ لیا گیا کہ طریقۂ علاج سے ان کے چہرے کے قدرتی تاثرات متاثر نہ ہوں۔
محمد احمد کے مطابق ڈاکٹر کی جانب سے تجویز کردہ مختلف آپشنز میں سے انہوں نے کم مداخلت والے غیر جراحی فیس لفٹ کا انتخاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پورے عمل کے دوران انہیں کسی خاص تکلیف کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور طبی عملے نے بھی انہیں بھرپور تعاون فراہم کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی ڈرامے اے آئی سے لکھے جا رہے ہیں، سید محمد احمد کا چونکا دینے والا انکشاف
اداکار نے اپنے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ علاج کے بعد انہیں خود کو پہلے سے زیادہ جوان محسوس ہوا۔ انہوں نے مستقبل میں کسی ممکنہ مزید پروسیجر یا علاج کے حوالے سے بھی معلومات شیئر کرنے کا عندیہ دیا۔
محمد احمد کے فیس لفٹ کروانے کی خبر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف آرا کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ جہاں کچھ افراد نے اپنی شخصیت اور ظاہری حلیے کا خیال رکھنے کے لیے ان کے فیصلے کو سراہا وہیں بعض صارفین کا کہنا ہے کہ قدرتی طور پر بڑھتی عمر بھی اپنی ایک خوبصورتی اور وقار رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سید محمد احمد کے الزامات کے بعد فہد شیخ نے خاموشی توڑ دی، ویڈیو لیک کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا عندیہ
محمد احمد پاکستانی شوبز انڈسٹری کا ایک معروف نام ہیں جو اپنی منفرد اداکاری اور جاندار تحریروں کے باعث ناظرین میں خاص مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے اے صبا، عہدِ وفا، کچھ ان کہی، سن میرے دل، اے عشقِ جنون، اولاد، ہم تم، جڑواں، میرے پاس تم ہو اور پردیس سمیت متعدد مقبول ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔
بطور مصنف بھی محمد احمد کئی کامیاب ڈرامے تحریر کر چکے ہیں جن میں کچھ ان کہی، تم سے کہنا تھا اور بارات سیریز قابلِ ذکر ہیں۔ وہ ان دنوں ڈرامہ سیریل ڈاکٹر بہو میں بھی اداکاری کر رہے ہیں جبکہ ڈرامہ ماں میں ان کی پرفارمنس کو بھی ناظرین کی جانب سے سراہا جا رہا ہے۔














