پشتون حقوق سے جغرافیائی سیاست تک: پی ٹی ایم کے بیانیے پر ایک تجزیاتی نظر

منگل 11 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پی ٹی ایم یو کے 15 اگست 2026 کو کولوراڈو میں ’ایک قوم، ایک مقصد‘کے عنوان سے ایک پروگرام منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) خود کو نچلی سطح پر کام کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیم کے طور پر پیش کرتی ہے، جو پشتون شہریوں کے حقوق اور آزادیوں کی وکالت کرتی ہے۔ تاہم تحریک کا مجموعی سیاسی بیانیہ، اس کے سیاسی فیصلے اور علاقائی سطح پر اس کے پیغامات مسلسل نسلی قوم پرستی، ریاست مخالف تقسیم اور بعض ایسے جغرافیائی سیاسی بیانیوں سے ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں جنہیں پاکستان کے لیے مخالفانہ قرار دیا جاتا ہے۔

’آمو دریا سے اباسین تک‘کا نعرہ: جغرافیائی حقائق اور نسلی نمائندگی

آمو دریا، جو افغانستان کی شمالی سرحد کو وسطی ایشیا سے جدا کرتا ہے، سے لے کر اباسین یعنی دریائے سندھ تک پورے خطے کو ’ ایک قوم، ایک مقصد‘کے طور پر پیش کرنے کا تصور تاریخی اور نسلی اعتبار سے متنازع جغرافیائی تشکیل پر مبنی ہے۔

جغرافیائی حقیقت

آمو دریا: شمالی سرحد — شمالی افغانستان کا کثیر النسلی خطہ، جہاں ازبک، تاجک، ترکمان اور ہزارہ آبادی بھی موجود ہے۔

ہندوکش/کابل کا طاس: مرکزی عبوری خطہ۔

ڈیورنڈ لائن: 1893 میں قائم ہونے والی بین الاقوامی سرحد۔

اباسین/دریائے سندھ: پاکستان کا خودمختار علاقہ، جو گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ سے گزرتا ہے۔

آمو دریا سے ہندوکش تک پھیلا شمالی افغانستان تاریخی طور پر مختلف نسلی گروہوں کا مسکن رہا ہے، جن میں تاجک، ازبک، ترکمان اور ہزارہ شامل ہیں۔ چنانچہ اس پورے علاقے کو یکساں اور واحد ’ پشتون قوم ‘ کا خطہ قرار دینا وہاں آباد غیر پشتون آبادی کی موجودگی کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہوگا۔

اسی طرح دریائے سندھ پاکستان کے خودمختار علاقوں سے گزرتا ہے۔ بین الاقوامی سرحدوں کو نظرانداز کرتے ہوئے نسلی دعوے کو دریائے سندھ تک وسعت دینا ماضی میں پیش کیے جانے والے’گریٹر پشتونستان ‘ کے تصورات سے مماثلت رکھتا ہے، جو ریاستی خودمختاری اور بین الاقوامی قانونی اصولوں سے متصادم سمجھے جاتے ہیں۔

پی ٹی ایم کا جغرافیائی تصور جنوبی اور وسطی ایشیا کی حقیقی آبادیاتی تقسیم اور پاکستان و افغانستان کی ریاستی خودمختاری، دونوں کو نظرانداز کرتا ہے۔

سیاسی بیانیے کا وقت اور جغرافیائی سیاسی ہم آہنگی

سیاسی تحریکوں کے احتجاجی پروگراموں کے اوقات اور مقامات ان کے سیاسی روابط اور حکمتِ عملی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

بیرونِ ملک پشتون قوم پرست اجتماعات کا انعقاد 15 اگست، یعنی بھارت کے یومِ آزادی کے موقع پر، ایسے بصری اور سیاسی تاثر کو تقویت دیتا ہے جو پاکستان کے علاقائی حریفوں کے بیانیے سے ہم آہنگ ہو۔

علاقائی حریف ماضی میں پاکستان کے اندر ذیلی قوم پرست اور علیحدگی پسند گروہوں کی حمایت کرتے رہے ہیں، جو پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوششیں ہی تھیں۔

پاکستان مخالف نعروں کو ایسے دن اجاگر کرنا جسے پاکستان کے ایک اہم علاقائی حریف کے قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے، پی ٹی ایم کی سرگرمیوں کو محض سماجی و معاشی یا شہری حقوق کی وکالت سے آگے لے جا کر وسیع تر جغرافیائی سیاسی تناظر میں پیش کرتا ہے۔

ڈیورنڈ لائن کا معاملہ: نسلی شناخت اور سرحدی اصول

پی ٹی ایم مسلسل 1893 کی ڈیورنڈ لائن کو ’ مصنوعی سرحد ‘ قرار دیتے ہوئے اسے ایک ہی نسلی گروہ کو تقسیم کرنے والی لکیر کے طور پر پیش کرتی ہے۔ تاہم جنوبی اور وسطی ایشیا میں بین الاقوامی سرحدوں کے دونوں جانب ایک ہی نسلی گروہ کی موجودگی کوئی غیر معمولی بات نہیں۔

مثال کے طور پر افغانستان کی سرحدوں کے ساتھ ترکمان، ازبک، تاجک، فارسی اور بلوچ آبادیوں میں ان سرحدوں کے حوالے سے اسی نوعیت کی علیحدگی پسند تحریکیں موجود نہیں۔

اگر بین الاقوامی سرحد کے دونوں جانب کسی نسلی گروہ کی موجودگی ریاستی خودمختاری سے لازماً متصادم ہوتی تو افغانستان کی تاجکستان، ازبکستان، ترکمانستان اور ایران کے ساتھ سرحدوں پر بھی اسی نوعیت کی تحریکیں موجود ہوتیں۔

ڈیورنڈ لائن کو خصوصی طور پر سیاسی مسئلہ بنانا کسی آفاقی اصول کے بجائے مخصوص سیاسی حکمتِ عملی کا نتیجہ لگتا ہے۔

پاکستان میں پشتونوں کی سیاسی اور ادارہ جاتی حیثیت

پشتون پاکستان میں ایک ’ مظلوم اقلیت ‘ ہیں اور انہیں ایک طاقتور مرکزی ریاست، جسے بعض اوقات ’ پنجابی اسٹیبلشمنٹ ‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے، کے زیرِ تسلط قرار دیا جاتا ہے۔ حالانکہ پاکستان کی سیاسی اور ادارہ جاتی حقیقت اس تصور سے زیادہ پیچیدہ ہے۔

پشتون مختلف ادوار میں پاکستان کے اعلیٰ ترین آئینی و ریاستی عہدوں پر فائز رہے ہیں، جن میں صدر، وزیراعظم، آرمی چیف، چیف جسٹس اور وفاقی وزرا کے عہدے شامل ہیں۔

اسی طرح پشتون آبادی پاکستان کی مسلح افواج، سول سروس اور عدالتی اداروں میں بھی نمایاں کردار ادا کرتی ہے اور قومی پالیسی سازی میں شریک ہے۔

معاشی میدان میں بھی پشتون کاروباری برادری ملک بھر میں ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس، تعمیرات، رئیل اسٹیٹ اور خوردہ تجارت سمیت اہم شعبوں میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔ کراچی، جو پاکستان کا معاشی مرکز ہے، میں دنیا کی سب سے بڑی شہری پشتون آبادی موجود ہے۔

 پاکستان میں پشتونوں کے تجربے کو ریاستی سطح پر منظم نسلی محرومی کے طور پر پیش کرنا قومی سطح پر ان کے سیاسی، معاشی اور ادارہ جاتی انضمام کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔

شکایات کو سیاسی ہتھیار بنانا

پی ٹی ایم کا ظہور سابق قبائلی علاقوں، جو اب خیبر پختونخوا میں ضم ہوچکے ہیں، میں دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کے بعد ہوا۔ تحریک بعض حقیقی مقامی شکایات کو بنیاد بنا کر ریاستی سیکیورٹی اداروں کو تنقید کا نشانہ بناتی ہے، جبکہ شدت پسند گروہوں کے حوالے سے اس کا رویہ نسبتاً نرم ہے۔

پی ٹی ایم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جیسے دہشتگرد گروہوں کی کارروائیوں کی مذمت نہیں کرتی، جنہوں نے بڑی تعداد میں پشتون شہریوں، قبائلی عمائدین اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔

پی ٹی ایم کے کارکن پاک افغان سرحد پر باڑ، سیکیورٹی چیک پوسٹوں اور انٹیلی جنس بنیادوں پر کیے جانے والے آپریشنز کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔حالانکہ ان اقدامات کا مقصد سرحد پار دہشتگردی، اسمگلنگ اور شدت پسندوں کی دراندازی کو روکنا ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ انسدادِ دہشتگردی کی کارروائیوں کو شہریوں کے خلاف کارروائی کے طور پر پیش کرنے سے دہشتگرد نیٹ ورکس کو بیانیاتی فائدہ حاصل ہوسکتا ہے۔

نسلی تقسیم اور سماجی ہم آہنگی

پاکستان ایک کثیر النسلی وفاق ہے، جہاں مختلف قومیتیں مشترکہ مذہبی، آئینی اور تاریخی رشتوں سے منسلک ہیں۔ پی ٹی ایم کا بیانیہ سخت نسلی شناخت کی سیاست کو فروغ دیتا ہے اور بالخصوص پشتونوں اور پنجابیوں کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔

یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ریاستی اداروں کو ’ پنجابی غلبے ‘ کے اداروں کے طور پر پیش کرنے اور سکیورٹی اقدامات کو نسلی بالادستی سے جوڑنے کے نتیجے میں مختلف برادریوں کے درمیان بداعتمادی پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔

پشتون، پنجابی، سندھی، بلوچ اور کشمیری شہری مسلح افواج اور دیگر ریاستی اداروں میں مل کر خدمات انجام دیتے ہیں، اس لیے نسلی بنیادوں پر تقسیم قومی دفاعی اداروں کے اتحاد کو متاثر کرتی ہے۔

نوجوانوں کی بڑی آبادی بھی سیاسی تحریکوں کے لیے ایک اہم عنصر ہے اور معاشی مشکلات سے دوچار نوجوانوں کو جذباتی بیانیے کے ذریعے متحرک کرنے کے بجائے تعلیم، روزگار اور معاشی مواقع کی فراہمی پر توجہ دینی چاہیے۔

نسلی جغرافیائی تنازعات کے بجائے سماجی و معاشی ترقی

خیبر پختونخوا اور سابق قبائلی اضلاع کے پشتون عوام کی حقیقی ترجیحات میں معاشی ترقی، معیاری تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے اور قانون کی حکمرانی شامل ہیں، نہ کہ جغرافیائی سیاسی کشمکش یا سرحدوں کی ازسرِنو تشکیل۔

سابق قبائلی اضلاع کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے والی 25ویں آئینی ترمیم ادارہ جاتی پیشرفت ہے۔ اس ترمیم کے ذریعے علاقے کو صوبے کے عدالتی، پولیس اور قانون سازی کے نظام میں شامل کیا گیا اور وفاقی سطح پر ترقیاتی فنڈز بھی مختص کیے گئے۔

اسی طرح پاکستان نے طورخم اور چمن سمیت اہم سرحدی گزرگاہوں کو جدید بنانے میں سرمایہ کاری کی ہے، جس کا مقصد باقاعدہ دوطرفہ تجارت، ٹرانزٹ راہداریوں اور سرحد کے دونوں جانب پشتون تاجروں کے لیے معاشی مواقع کو فروغ دینا بتایا گیا ہے۔

نسلی قوم پرستی اور جغرافیائی دعووں پر مبنی سیاسی پلیٹ فارم مقامی تجارت، سرمایہ کاری اور استحکام کے لیے مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔ پشتون مفادات کی مؤثر نمائندگی وفاقی انضمام، ادارہ جاتی اصلاحات اور آئینی دائرہ کار میں سیاسی جدوجہد کے ذریعے ہوسکتی ہے، نہ کہ ایسے نعروں کے ذریعے جو، تحریر کے بقول، بیرونی جغرافیائی سیاسی مفادات سے ہم آہنگ ہوں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp