کیا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں بڑی کمی ہونے جا رہی ہے؟

منگل 11 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تنازع کے باعث عالمی توانائی منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جس کے اثرات براہِ راست پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر پڑے۔ عالمی سپلائی میں رکاوٹوں اور خلیج میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتِ حال کے باعث خام تیل اور ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تیزی آئی، جس کے نتیجے میں پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں غیر معمولی سطح تک پہنچ گئیں۔

رواں سال اپریل میں عالمی بحران کے عروج پر پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 458.41 روپے فی لیٹر، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 520.35 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی تھی، جو ملک کی تاریخ میں ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا دور تھا۔ بعد ازاں عالمی منڈی میں دباؤ کم ہونے اور حکومت کی جانب سے ریلیف اقدامات کے نتیجے میں قیمتوں میں بتدریج کمی شروع ہوئی۔

مزید پڑھیں: حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفیکشن جاری

اب صورتِ حال ایک مرتبہ پھر صارفین کے لیے نسبتاً امید افزا دکھائی دے رہی ہے، کیونکہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں آنے والی کمی کا اثر پاکستان میں نئے قیمتوں کے تعین کے فارمولے کے تحت مرحلہ وار منتقل ہونے کا امکان ہے۔

حکومت نے پیٹرول کی قیمت کا نیا فارمولا کیوں متعارف کرایا؟

حکومت پاکستان نے عالمی منڈی میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ اور امریکا، ایران کشیدگی کے بعد پیٹرولیم قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار میں اہم تبدیلی کی۔ اب اوگرا کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ کی بنیاد پر تعین کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔

وفاقی حکومت کے مطابق اس نظام کا مقصد قیمتوں کے تعین کو زیادہ شفاف اور مارکیٹ سے منسلک بنانا ہے۔ نئے طریقہ کار میں بین الاقوامی مارکیٹ کے Platts benchmark کو بنیاد بنایا جاتا ہے اور سات ورکنگ دنوں کی اوسط قیمت کو دیکھا جاتا ہے۔ اوگرا کو قیمتوں کے مختلف اجزا بھی عوام کے سامنے رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ صارفین سمجھ سکیں کہ عالمی قیمت میں تبدیلی کا پاکستانی پمپ ریٹ پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔

پیٹرولیم وزیر علی پرویز ملک نے بھی واضح کیا تھا کہ اس نظام کے تحت عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھیں گی تو اس کا اثر پاکستان میں بھی آئے گا اور اگر عالمی قیمتیں کم ہوں گی تو کمی بھی خودکار طریقے سے پاکستانی صارفین تک منتقل ہوگی۔

اب پیٹرول سستا ہونے کا امکان کیوں بڑھ گیا؟

ماہرین کے مطابق نئے نظام میں سب سے اہم نکتہ سات ورکنگ دنوں کی رولنگ اوسط ہے۔

یعنی اگر عالمی مارکیٹ میں کسی ایک دن قیمت بہت زیادہ ہو تو اس کا اثر فوری طور پر مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا، بلکہ وہ چند دن تک اوسط میں شامل رہتا ہے۔ اسی طرح جب زیادہ قیمت والے دن سات روزہ اوسط سے باہر نکلتے ہیں اور ان کی جگہ کم قیمت والے دن شامل ہوتے ہیں تو اوسط تیزی سے نیچے آنا شروع ہو جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہونے کے باوجود پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں فوری طور پر اسی تناسب سے کمی نظر نہیں آتی۔ چند دن کے وقفے کے بعد زیادہ قیمت والے دن اوسط سے نکلتے ہیں تو کمی کا اثر پاکستانی صارفین تک پہنچتا ہے۔

حالیہ دنوں میں پیٹرول کی بین الاقوامی قیمت کے حوالے سے یہی صورتِ حال سامنے آئی ہے۔ حکومتی وضاحت کے مطابق جب سات روزہ اوسط میں نسبتاً زیادہ قیمت والے دن باہر نکلیں گے اور ان کی جگہ کم قیمت والے نئے دن شامل ہوں گے تو پاکستان میں قیمت بھی نیچے آنے لگے گی۔

مزید پڑھیں:حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کر دیا

پیٹرول میں 15 سے 25 روپے کمی کا امکان؟

مارکیٹ ذرائع کے مطابق اگر عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمت موجودہ یا اس سے کم سطح پر برقرار رہتی ہے اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کوئی بڑا منفی ردِعمل نہیں آتا تو آنے والے دنوں میں پیٹرول کی قیمت میں نمایاں کمی کا امکان موجود ہے۔

ذرائع کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر تقریباً 15 سے 25 روپے فی لیٹر تک کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم یہ کمی ایک ہی دن میں آنے کے بجائے نئے فارمولے کے تحت مرحلہ وار سامنے آنے کا امکان زیادہ ہے۔

اسی طرح ڈیزل کے معاملے میں بھی بڑی کمی کی گنجائش پیدا ہوئی ہے۔ ڈیزل کی بین الاقوامی قیمتوں میں حالیہ کمی کا اثر سات روزہ اوسط میں شامل ہونے کے بعد پاکستانی مارکیٹ میں منتقل ہونا شروع ہوگا۔

یہاں یہ بات اہم ہے کہ یہ اعدادوشمار امکانی اندازے ہیں، حتمی قیمت نہیں۔ اصل کمی کا انحصار عالمی Platts قیمت، روپے اور ڈالر کی شرح، درآمدی پریمیم، مقامی ٹیکسز اور دیگر قیمتوں کے اجزا پر ہوگا۔

ڈیزل میں بھی کمی کیوں متوقع ہے؟

ڈیزل کی صورتِ حال پیٹرول سے کچھ مختلف ہے۔ پاکستان میں ڈیزل کی قیمت عالمی مارکیٹ کے ساتھ ساتھ اس کی بین الاقوامی ریفائنڈ قیمت سے بھی نمایاں طور پر متاثر ہوتی ہے۔

حالیہ دنوں میں ڈیزل کی عالمی قیمت میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔ حکومت کے مطابق نئے نظام کے آغاز کے وقت Platts benchmark کے مطابق ڈیزل کی قیمت تقریباً 110 ڈالر سے بڑھ کر 140 ڈالر کے قریب پہنچ گئی تھی، جبکہ بعد کے دنوں میں عالمی قیمتوں میں دوبارہ کمی دیکھی گئی۔
چونکہ موجودہ فارمولا سات دن کی اوسط کو بنیاد بناتا ہے، اس لیے پہلے مہنگے دن اوسط میں موجود رہنے کے باعث کمی کا پورا اثر فوری طور پر سامنے نہیں آتا۔ جیسے جیسے وہ دن اوسط سے نکلتے جائیں گے، کم قیمت والے نئے دن شامل ہوتے جائیں گے اور اوسط نیچے آنے کی صورت میں پاکستانی قیمت بھی مرحلہ وار کم ہوسکتی ہے۔

وزیر پیٹرولیم کا بھی واضح اشارہ

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک پہلے ہی اس حوالے سے عوام کو اشارہ دے چکے ہیں کہ اگر عالمی منڈی میں قیمتیں موجودہ سطح پر برقرار رہیں تو صارفین کے لیے اچھی خبر سامنے آسکتی ہے۔

ان کا مؤقف ہے کہ موجودہ نظام میں حکومت کو ہر مرتبہ سیاسی طور پر قیمت کا فیصلہ کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی، بلکہ بین الاقوامی قیمتوں میں تبدیلی فارمولے کے ذریعے خود پاکستانی قیمتوں میں منتقل ہوگی۔

ان کے مطابق سات دن کی اوسط میں جب زیادہ قیمت والے دن نکل جائیں گے اور کم قیمت والے دن شامل ہوں گے تو عوام کو ریلیف ملنا شروع ہوگا۔ ڈیزل کے معاملے میں بھی یہی طریقہ کار اپنایا جا رہا ہے، جس کے تحت قیمت میں کمی مرحلہ وار صارفین تک منتقل ہوسکتی ہے۔
موجودہ قیمت کہاں کھڑی ہے؟

حالیہ دستیاب قیمتوں کے مطابق 8 اگست سے پیٹرول کی قیمت 327.62 روپے فی لیٹر، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 380.86 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی تھی۔ اس سے پہلے 7 اگست کے لیے پیٹرول 329.82 روپے اور ڈیزل 382.36 روپے فی لیٹر تھا۔ ہفتہ اور اتوار کے باعث یہ نرخ 10 اگست تک برقرار رہے۔
اس طرح نئے روزانہ قیمتوں کے نظام میں اب صارفین کی نظریں اگلی تبدیلی پر ہیں کہ عالمی منڈی کے کم نرخ سات روزہ اوسط میں کس رفتار سے شامل ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں:پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی، پیٹرول 2 روپے 20 پیسے اور ڈیزل ڈیڑھ روپے فی لیٹر سستا

 عالمی قیمتوں میں کمی کا اثر پاکستان تک پہنچے گا؟

توانائی اور کاروباری امور کے تجزیہ کار سید عمران احمد کے مطابق عالمی خام تیل کی قیمتوں میں کمی پاکستان کے لیے براہِ راست ریلیف کا باعث بن سکتی ہے۔ انہوں نے جون میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ عالمی سپلائی کے خدشات کم ہونے اور خام تیل کی قیمت میں کمی سے پاکستان میں بھی ایندھن کی قیمتیں نیچے آنے کا امکان پیدا ہوا ہے، جس سے ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت میں کمی کے ذریعے مہنگائی کے دباؤ کو بھی کم کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمت صرف خام تیل کی عالمی قیمت سے طے نہیں ہوتی۔ حکومت کے محصولات، پٹرولیم لیوی، کسٹمز ڈیوٹی، درآمدی اخراجات، شرحِ مبادلہ اور دیگر قیمتوں کے اجزا بھی حتمی قیمت پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اسی لیے عالمی منڈی میں کمی کا پورا فائدہ لازماً ایک ہی تناسب سے صارف کو نہیں ملتا۔

حالیہ قیمتوں میں بھی حکومت پیٹرول پر تقریباً 110 روپے فی لیٹر، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر تقریباً 96 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول کر رہی ہے۔

کیا واقعی بڑی کمی ہونے جا رہی ہے؟

موجودہ صورتِ حال کو دیکھا جائے تو کمی کے امکانات موجود ہیں، لیکن اسے ابھی حتمی بڑی کمی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

اگر عالمی مارکیٹ میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں موجودہ کم سطح پر برقرار رہتی ہیں تو سات ورکنگ دنوں کی اوسط میں مہنگے دن مسلسل باہر نکلتے جائیں گے۔ اس

صورت میں پاکستان میں بھی قیمتوں میں روزانہ یا مرحلہ وار چند روپے کی کمی سامنے آسکتی ہے اور مجموعی کمی نمایاں ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کرتی ہے، عالمی سپلائی متاثر ہوتی ہے یا خام تیل کی قیمت دوبارہ اوپر جاتی ہے تو یہی فارمولا قیمتوں میں اضافے کو بھی تیزی سے پاکستان منتقل کرے گا۔ یہی موجودہ نظام کا بنیادی اصول ہے: عالمی مارکیٹ اوپر جائے گی تو قیمت اوپر، نیچے آئے گی تو قیمت نیچے۔

موجودہ نظام میں سب سے اہم تبدیلی یہ ہے کہ ماضی کی طرح عوام کو ہر پندرہ دن بعد ایک بڑی قیمت تبدیلی کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین سے عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کا اثر نسبتاً چھوٹے مرحلوں میں صارفین تک منتقل ہوگا۔

مزید پڑھیں:پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے نئے فارمولے کے بعد خام تیل کتنا سستا ہوا، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کتنی کمی آئی؟

اگر عالمی قیمتیں مزید نیچے آتی ہیں تو پاکستانی صارفین کو آنے والے دنوں میں مسلسل چھوٹی چھوٹی کمیوں کی صورت میں ریلیف مل سکتا ہے۔ اور اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو پیٹرول میں 15 سے 25 روپے اور ڈیزل میں بھی نمایاں کمی کا امکان مارکیٹ میں زیرِ بحث ہے۔ تاہم حتمی قیمت OGRA کے روزانہ حساب اور متعلقہ نوٹیفکیشن کے بعد ہی سامنے آئے گی۔

یوں اس وقت بنیادی سوال یہ نہیں کہ پیٹرول سستا ہوگا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ عالمی منڈی میں آنے والی کمی سات روزہ اوسط میں کتنی تیزی سے منتقل ہوتی ہے اور اس کا کتنا حصہ پاکستانی صارف تک پہنچتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp