مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال نے یہ فرق کرنا مشکل بنا دیا ہے کہ کوئی تحریر مکمل طور پر انسان نے لکھی ہے یا اسے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا ہے، تاہم ٹیکنالوجی کمپنیاں اب ایسے نئے طریقوں پر کام کر رہی ہیں جن کے ذریعے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ متن کی شناخت ممکن بنائی جا سکے گی۔
رپورٹس کے مطابق معروف اے آئی کمپنی اینتھروپک اپنے ماڈلز سے تیار ہونے والے متن میں واٹرمارک شامل کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں: تائیوان پر اے آئی سائبر حملہ، سرکاری ادارے نشانہ بن گئے
اس نظام کے تحت تحریر میں ایک مخصوص مگر پوشیدہ پیٹرن شامل کیا جائے گا، جو عام قاری کو دکھائی نہیں دے گا، تاہم خصوصی ڈیٹیکٹر کی مدد سے اس کی موجودگی کا پتا لگا کر اندازہ لگایا جا سکے گا کہ متن اے آئی سے تیار ہوا ہے یا نہیں۔
اے آئی سے تیار ہونے والے مواد میں مسلسل اضافے کے باعث ایسی ٹیکنالوجی کی ضرورت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ یورپی یونین کے اے آئی ایکٹ میں بھی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کی شناخت اور اس کی واضح نشاندہی سے متعلق قواعد متعارف کرائے جا رہے ہیں۔
اینتھروپک کے مطابق مجوزہ واٹرمارکنگ نظام صرف یورپی ممالک تک محدود نہیں ہوگا بلکہ ان تمام خطوں میں اس کے استعمال کی توقع ہے جہاں کمپنی کے متعلقہ اے آئی ماڈلز دستیاب ہوں گے۔
واٹرمارکنگ ٹیکنالوجی کیسے کام کرے گی؟
اے آئی ماڈل جب کوئی جملہ تخلیق کرتا ہے تو وہ اپنی تربیت کے دوران حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر مختلف الفاظ میں سے انتخاب کرتا ہے۔ واٹرمارکنگ ٹیکنالوجی اسی عمل میں الفاظ کے انتخاب اور ترتیب کو ایک مخصوص انداز میں ترتیب دے کر ایسا پوشیدہ پیٹرن پیدا کر سکتی ہے جسے عام طور پر دیکھا نہیں جا سکے گا۔
یہ پوشیدہ نشان متن کی ظاہری شکل یا مفہوم کو تبدیل نہیں کرے گا، تاہم مخصوص سافٹ ویئر یا ڈیٹیکٹر اس پیٹرن کی نشاندہی کرکے یہ اندازہ لگا سکے گا کہ متن مصنوعی ذہانت سے تیار کیا گیا ہے۔
کیا واٹرمارک 100 فیصد قابل اعتماد ہوگا؟
ماہرین کے مطابق واٹرمارکنگ اے آئی سے تیار کردہ مواد کی شناخت کے لیے ایک مؤثر ذریعہ ضرور ثابت ہو سکتی ہے، تاہم اسے حتمی اور ناقابلِ تردید ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔
کمپنیوں کے مطابق عام طور پر کسی متن کو کاپی پیسٹ کرنے یا معمولی نوعیت کی ترامیم کرنے کے باوجود واٹرمارک کا سگنل برقرار رہ سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر تحریر کو بڑے پیمانے پر دوبارہ لکھا جائے، کسی دوسری زبان میں ترجمہ کیا جائے یا مکمل طور پر دوبارہ ٹائپ کیا جائے تو واٹرمارک کے ختم ہونے کا امکان موجود رہتا ہے۔
اس کے علاوہ واٹرمارک کی موجودگی بھی لازماً اس بات کا ثبوت نہیں کہ پوری تحریر اے آئی نے خود لکھی ہے۔ اگر کسی انسان کی تیار کردہ تحریر کو اے آئی کے ذریعے صرف ایڈیٹ، ترتیب یا فارمیٹ کیا گیا ہو تو اس عمل کے دوران بھی واٹرمارک شامل ہوسکتا ہے۔ اسی طرح کسی متن میں واٹرمارک نہ ملنے سے یہ نتیجہ بھی اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ لازماً انسان کی تحریر ہے۔
گوگل کے جیمینائی میں بھی اے آئی سے تیار کردہ مواد کی شناخت کے لیے واٹرمارکنگ سے متعلق ٹیکنالوجی موجود ہے، جبکہ اوپن اے آئی بھی چیٹ جی پی ٹی کے لیے اس نوعیت کے نظام کے امکان کا اظہار کر چکا ہے۔
مزید پڑھیں: اوپن اے آئی کا منفرد نظام: ملازمین اب ایک ای میل سے اعلیٰ قیادت تک مسئلہ پہنچا سکتے ہیں
یوں مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے والی تحریروں کی شناخت کے لیے ٹیکنالوجی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں کسی ایک واٹرمارک یا ڈیٹیکٹر کو 100 فیصد درست اور حتمی ثبوت قرار دینا مناسب نہیں ہوگا۔














