خطے میں بھارت کی روایتی اجارہ داری کو بڑا دھچکا لگا ہے، جہاں نیپال نے پہلی بار حکومت سازی کے بعد فوراً دہلی کا روایتی دورہ کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ بھارتی سیکرٹری خارجہ کی سردمہری سے پذیرائی کے بعد اب بھارتی آرمی چیف نیپالی وزیراعظم کو بھارت کے دورے پر آمادہ کرنے کے لیے کاٹھمنڈو کا رخ کر رہے ہیں، جسے سفارتی حلقوں میں بھارت کے لیے شدید خفت اور سبقت کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے لیپولیکھ یاترا پر نیا تنازع، نیپال کا بھارت کے خلاف احتجاج
بھارتی فوج کے سربراہ کا کٹھمنڈو کا دورہ سفارتی اور عسکری حلقوں میں شدید بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارتی آرمی چیف نیپالی وزیراعظم کے سامنے بھارت کے دورے کی التجا کرنے پر مجبور نظر آتے ہیں، جو کہ بھارتی سفارت کاری کے لیے ایک لمحۂ فکر ہے۔
یہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کسی نیپالی وزیراعظم نے حکومت سنبھالنے کے بعد نئی دہلی کی طرف دوڑ لگانے سے انکار کیا ہو۔ اس سے قبل بھارت کے سیکرٹری خارجہ کو بھی نیپال کی جانب سے سخت اور سردمہری پر مبنی ردِعمل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
یہ بھی پڑھیے نیپالی ریپر بلندر شاہ وزیر اعظم منتخب، عہدے کا حلف اٹھا لیا
سفارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں خود کو ’بڑا بھائی‘ سمجھنے والے بھارت کو اب اپنے ہی پڑوسیوں کے دربار میں عزت کی بھیک مانگنا پڑ رہی ہے، جس نے خطے میں بھارت کے گرتے ہوئے اثر و رسوخ اور تنہائی کو واضح کر دیا ہے۔














