بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران 5,089 سرکاری اسکول ختم ہوگئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024-25 کے دوران 146 سرکاری اسکول ایسے تھے جہاں ایک بھی طالب علم زیرِ تعلیم نہیں تھا، جبکہ 1,371 اسکول صرف ایک استاد کے ذریعے چلائے جا رہے تھے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سرکاری اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں سرکاری اسکولوں کی تعداد 2014-15 میں 23,874 تھی جو 2023-24 میں کم ہوکر 18,785 رہ گئی، یعنی ایک دہائی کے دوران اسکولوں کی تعداد میں 21 فیصد سے زائد کمی ہوئی۔ سب سے نمایاں کمی 2018-19 کے بعد ریکارڈ کی گئی۔
یہ بھی پڑھیے آزاد کشمیر کے عوام پرسکون، مقبوضہ کشمیر خوف کی فضا میں، محبوبہ مفتی کا اعتراف
بھارت کے نیشنل انسٹی ٹیوشن فار ٹرانسفارمنگ انڈیا کی 2024-25 کی رپورٹ کے مطابق اسکولوں کی تعداد میں کمی کی ایک وجہ کم طلبہ والے تعلیمی اداروں کو ضم کرکے وسائل کا بہتر استعمال قرار دیا گیا ہے۔ تاہم رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ 146 اسکولوں میں کوئی طالب علم موجود نہیں تھا لیکن وہاں 61 اساتذہ تعینات تھے، جبکہ 1,371 ایک استاد والے اسکولوں میں مجموعی طور پر 32,303 طلبہ زیرِ تعلیم تھے۔
یہ بھی پڑھیے مقبوضہ کشمیر: بی جے پی کے دباؤ پر لائبریری سے 2 کتابیں اٹھا لی گئیں، 8 افسران معطل
رپورٹ میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی تعلیمی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ PARAKH 2024 کے جائزے میں علاقے نے زبان کے مضمون میں 46 فیصد، ریاضی میں 39 فیصد اور ’ہمارے اردگرد کی دنیا‘ میں 41 فیصد اسکور کیا، جو اوسط سے کم تھا۔ اعداد و شمار سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسکولوں کے انضمام، اساتذہ کی تعیناتی اور طلبہ کی تقسیم کے درمیان مناسب توازن برقرار رکھا گیا یا نہیں، خصوصاً دور دراز علاقوں میں اسکولوں کے انضمام سے قبل طلبہ کے لیے کم سے کم سفری فاصلے کے اصولوں پر عمل کیا گیا یا نہیں۔














