ظہران ممدانی نے مختلف زبانوں میں انتخابی مہم چلا کر نیویارک کی متنوع آبادی خصوصاً نوجوان اور تارکین وطن ووٹرز کی توجہ حاصل کرلی۔
ممدانی کی انتخابی مہم میں صرف انگریزی پر انحصار کرنے کے بجائے چینی، بنگالی اور ہسپانوی سمیت مختلف زبانوں کو شامل کیا گیا، جس کے ذریعے محنت کش طبقے اور تارکین وطن برادریوں سے ان کی مادری زبان میں رابطہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: نیویارک کے میئر ظہران ممدانی پر نیتن یاہو کی شدید تنقید، آئی سی سی کو ‘کرپٹ اور جھوٹا ادارہ’ قرار دے دیا
نیویارک کے میئر کی جانب سے مختلف زبانوں میں عوامی پیغامات اور مقامی سطح پر تیار کردہ انتخابی مواد نے بھی خاصی توجہ حاصل کی۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ممدانی کی کثیر لسانی مہم کو سراہنے کے ساتھ ساتھ دلچسپ تبصرے بھی کیے گئے۔ ایک صارف نے مزاحیہ انداز میں لکھا کہ ’بھائی پوکیمون کی طرح زبانیں جمع کررہا ہے۔‘
ممدانی کے مختلف پلیٹ فارمز پر ایک زبان سے دوسری زبان میں روانی سے منتقل ہونے کے انداز نے بھی انٹرنیٹ صارفین کو متاثر کیا اور متعدد تبصرے و ویڈیوز وائرل ہوئیں۔
ممدانی کی مقبولیت میں سماجی رابطوں پر وائرل ہونے والے مواد، عوام سے براہ راست رابطے اور مختلف زبانوں میں انتخابی مہم نے اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث وہ نوجوان ووٹرز خصوصاً نئی نسل میں نمایاں مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
یہ بھی پڑھیں: ظہران ممدانی کی کامیابی کے پیچھے بھی عورت کا ہاتھ، وہ کون ہے؟
انتخابی جائزوں کے مطابق 18 سے 29 سال عمر کے نوجوان ان کے سیاسی اتحاد کا اہم حصہ تھے، جن میں تقریباً 75 سے 78 فیصد نے ان کی حمایت کی۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد میں انتخابی عمل میں شرکت نے بھی ان کی مہم کو تقویت دی۔
روایتی سیاست دانوں کے برعکس ممدانی نے رسمی اور طے شدہ سیاسی بیانات کے بجائے مزاحیہ مواد، مختصر ویڈیوز اور سماجی رابطوں پر فعال موجودگی کو اپنی مہم کا حصہ بنایا۔
وہ کبھی نئی نسل کے مزاحیہ انداز میں ویڈیوز بناتے، کبھی دکان میں موجود بلی کے ساتھ وقت گزارتے اور کبھی چینی، بنگالی اور ہسپانوی زبانوں میں گفتگو کرتے دکھائی دیے۔
تاہم ان کی مقبولیت صرف سماجی رابطوں تک محدود نہیں رہی۔ نوجوان ووٹرز میں رہائش کے بڑھتے اخراجات، معاشی عدم مساوات اور معاشرے کے مختلف طبقات کی مؤثر نمائندگی جیسے مسائل پر ان کی توجہ بھی پسند کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی دائیں بازو کی قوتیں ظہران ممدانی کی کامیابی پر برہم کیوں ؟
ممدانی نے سیاسی رابطے میں روزمرہ ثقافت اور کثیر لسانی انداز کو مرکزی حیثیت دے کر نوجوان نسل سے رابطے کا ایک منفرد طریقہ اختیار کیا۔














