عمرعبداللہ نے امریکی سفیر سے ملاقات میں کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق بھارتی مؤقف کی مکمل نفی کردی

بدھ 19 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مقبوضہ جموں کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کشمیر کو بھارت کی جانب سے اندرونی معاملہ قرار دیے جانے کی مکمل نفی کر دی ہے۔

عمر عبداللہ نے امریکی سفیر سے اہم ملاقات کے دوران خطے کے دیرینہ مسائل کے حل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کو علیحدہ قانونی، تاریخی اور خصوصی حیثیت حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مقبوضہ جموں و کشمیر کے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ عمر عبداللہ دہلی میں احتجاج پر کیوں مجبور ہوئے؟

عمر عبداللہ نے  اپنی گفتگو میں خطے میں بھارتی حکومت کے مؤقف کی مکمل نفی کرتے ہوئے ہوئے واضح پیغام دیا کہ جموں کشمیر کی جانب سے اپنی خصوصی علیحدہ حیثیت کے مطابق مستقبل میں امریکا اور جموں کشمیر کے درمیان تعلقات و تعاون کے عمل کو مزید وسعت اور گہرائی دی جائے گی۔

امریکی سفیر سے گفتگو اور بنیادی نقطہ نظر

امریکی سفیر گور کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ یہ ایک انتہائی مثبت اور خوشگوار ملاقات تھی جس میں دونوں ممالک کے تعلقات اور بالخصوص جموں کشمیر کے حوالے سے امریکا کے ممکنہ کردار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ان کے مطابق خطے سے جڑے کچھ ‘دیرینہ اور تاریخی مسائل’ (لیگسی) موجود ہیں جنہیں وقت کے ساتھ حل کرنے کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں امریکا کے ساتھ آئندہ بھی مثبت بات چیت جاری رکھی جائے گی۔

عمر عبداللہ نے امریکی سفیر سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں کشمیر سے متعلق بعض ’لیگیسی ایشوز‘ موجود ہیں جن کے حل کے لیے وقت کے ساتھ کام کیا جائے گا۔

مستقبل کی حکمت عملی اور سفارتی رابطہ

عمر عبداللہ نے اپنے بیان میں واضح کہا کہ جموں کشمیر کی جانب سے یہ بات چیت امریکا اور ریاستی حکومت کے درمیان ہوگی، دوسری جانب وہ خود نئی دہلی میں بھارتی حکومت کے ساتھ بھی اس معاملے کو اٹھائیں گے۔

مزید پڑھیں:ایران امریکا جنگ بندی: عمر عبداللہ پاکستانی کردار کے معترف

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ آنے والے دنوں میں امریکا اور جموں کشمیر کے درمیان باہمی روابط کا دائرہ کار مزید وسیع اور مضبوط ہوگا۔

موقف کی اہمیت اور سیاسی تناظر

وزیراعلیٰ کی جانب سے جموں کشمیر کی مخصوص قانونی حیثیت، تاریخ اور دیرینہ تنازعات کے اعتراف نے اس ملاقات کو سیاسی و سفارتی لحاظ سے انتہائی حساس بنا دیا ہے۔

ان کا یہ بیان نئی دہلی کے اس روایتی بیانیے سے نمایاں انحراف کو ظاہر کرتا ہے جس میں خطے کو مکمل طور پر بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دیا جاتا رہا ہے۔

جموں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی منسوخی کے بعد سے خطے کی سیاسی و قانونی صورتحال پر عالمی سطح پر مسلسل بحث جاری رہی ہے۔

مقامی قیادت اور عالمی برادری کی جانب سے خطے کے تاریخی اور سیاسی تنازعات کی موجودگی کو تسلیم کرتے ہوئے مسلسل سیاسی حل اور بین الاقوامی سطح پر رابطوں کی ضرورت پر زور دیا جاتا رہا ہے۔

موجودہ بیان میں عمر عبداللہ نے جموں کشمیر سے متعلق ماضی کے زیرِ التوا معاملات کو ’لیگیسی ایشوز‘ قرار دیتے ہوئے ان کے حل کے لیے مستقبل میں کام کرنے کی بات کی ہے۔

ان کا امریکی سفیر سے رابطے اور واشنگٹن کے ساتھ ممکنہ طور پر بڑھتے روابط کا اشارہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جموں کشمیر کے سیاسی مستقبل، آئینی معاملات اور مرکز کے ساتھ تعلقات بدستور اہم سیاسی موضوعات ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp