جاپان میں 118 سال پرانی تاریخی جیل کو منفرد انداز میں لگژری ہوٹل میں تبدیل کردیا گیا جہاں مہمان سابق جیل سیلز کو پرتعیش سوئٹس میں تبدیل کیے جانے کے بعد قیام کا غیر معمولی تجربہ حاصل کرسکتے ہیں۔
نارا میں واقع سابق جیل کو ’ہوشینویا نارا پرزن‘ کے نام سے ہوٹل کی شکل دی گئی ہے۔ یہ عمارت 1908 میں تعمیر کی گئی تھی اور 2017 تک نوجوان قیدیوں کے لیے استعمال ہوتی رہی۔ اب اسے جاپان کے اہم ثقافتی ورثے میں شمار کیا جاتا ہے۔
View this post on Instagram
لگژری ہوٹل کی تیاری کے دوران تقریباً 500 سابق جیل سیلز کو 48 سوئٹس، ہوٹل کی دیگر سہولیات اور ریسٹورنٹ میں تبدیل کیا گیا تاہم عمارت کی تاریخی شناخت اور جیل کی اصل طرزِ تعمیر کو بڑی حد تک برقرار رکھا گیا ہے۔
لگژری ٹریول کریئیٹر اور جاپان لائک اے لوکل کی بانی ایلونا کارافن نے حال ہی میں ہوٹل کا دورہ کیا اور اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر وہاں قیام کی ویڈیو شیئر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کے لیے اب تک کے سب سے منفرد ہوٹلوں میں سے ایک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا ہالی ووڈ نے امریکیوں کو خلائی مخلوق پر یقین کرنے کے لیے تیار کردیا؟
ایلونا کے مطابق بعض سوئٹس 9 سے 11 سابق جیل سیلز کو ملا کر تیار کیے گئے ہیں جس کے باعث کمروں کی ساخت عام ہوٹلوں کے مقابلے میں زیادہ طویل اور نسبتاً تنگ ہے۔ ہوٹل کی لابی میں جیل کی اصل تعمیراتی خصوصیات، سرخ اینٹوں کی دیواریں اور ایک بھاری لوہے کا دروازہ بھی محفوظ رکھا گیا ہے۔
سوئٹس میں لاؤنج، ڈائننگ ایریا، کافی اسٹیشن، منی بار، واک اِن کلوزٹ، جدید باتھ روم اور بیڈ روم سمیت مختلف سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ بعض کمروں میں پرانے طرز کے سی ڈی اور کیسٹ پلیئر بھی رکھے گئے ہیں جبکہ مہمانوں کو نارا پریفیکچر میں تیار کی جانے والی مختلف دستکاری اشیا بھی تحفے کے طور پر دی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چوری کرتے ہوئے گولیاں کیوں ماریں؟ چور نے دکاندار پر ایک کروڑ ڈالر کا مقدمہ درج کردیا
رپورٹ کے مطابق اس تاریخی عمارت کو ہوٹل میں تبدیل کرنے کا ایک مقصد اس کے تحفظ اور دیکھ بھال کے اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرنا بھی ہے کیونکہ صدی سے زائد قدیم ثقافتی ورثے کی حفاظت پر بھاری اخراجات آتے ہیں۔
ہوشینویا نارا پرزن میں ایک رات کے قیام کی قیمت کمرے کی نوعیت کے مطابق تقریباً 317 سے 1,114 امریکی ڈالر تک بتائی گئی ہے جبکہ مہمانوں کے لیے 9، 10 اور 11 سیل پر مشتمل مختلف سوئٹس دستیاب ہیں۔
تاریخی جیل کو پرتعیش ہوٹل میں تبدیل کرنے کے اس منفرد تجربے نے سوشل میڈیا صارفین کی توجہ حاصل کرلی ہے اور اب یہ سوال بھی گردش کررہا ہے کہ کیا لوگ ایک صدی سے زائد پرانی جیل میں لگژری قیام کا تجربہ کرنا پسند کریں گے؟














