سائنسدانوں کی ایک نئی تحقیق نے ڈارک میٹر سے متعلق سابقہ مفروضوں کو چیلنج کرتے ہوئے ڈارک فوٹونز کے ابتدائی کائنات میں کردار کے بارے میں نئی وضاحت پیش کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اورائن نیبولا میں پوشیدہ ساخت دریافت، سائنسدانوں نے کائنات سے متعلق اہم راز بے نقاب کر دیا
پہلے سائنسدانوں کا خیال تھا کہ ابتدائی کائنات میں ڈارک فوٹونز عام فوٹونز میں تبدیل ہوئے ہوں گے جس کے نتیجے میں ابتدائی کائناتی پلازما ضرورت سے زیادہ گرم ہوا ہوگا اور اس عمل کے قابل مشاہدہ آثار آج بھی موجود ہونے چاہییں۔
فزیکل ریویو لیٹرز نامی سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق ڈارک فوٹونز فرضی ذرات ہیں جنہیں معیاری ماڈل سے آگے کی طبیعیات کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ عام فوٹونز کی طرح ایک بنیادی قوت سے وابستہ ہو سکتے ہیں تاہم ان کا تعلق برقی مقناطیسی قوت کے بجائے ایک مختلف قوت سے تصور کیا جاتا ہے۔
تحقیق کے مطابق اگر ڈارک میٹر ڈارک فوٹونز پر مشتمل ہو تو یہ ذرات ابتدائی کائنات کو اس طرح گرم نہیں کرتے جس طرح پہلے کے نظریے میں تصور کیا گیا تھا۔
کئی دہائیوں سے ڈارک میٹر سائنسدانوں کے لیے ایک معمہ بنا ہوا ہے۔ یہ براہ راست نظر نہیں آتا اور روشنی کے ساتھ تعامل نہیں کرتا۔ تاہم الیکٹران، پروٹون اور نیوٹران جیسے مادے کے ذرات روشنی کے ساتھ جس طرح تعامل کرتے ہیں اس کے مشاہدے نے سائنسدانوں کو ایسے ذرات کی تلاش پر مجبور کیا جو موجودہ ذراتی ماڈل سے باہر ہو سکتے ہیں۔
تحقیق کے دوران کیے گئے نئے کمپیوٹر سمیولیشنز سے معلوم ہوا کہ ڈارک فوٹونز اور کائناتی پلازما کے تعامل کے دوران نظام میں شدید غیر خطی اثرات پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس سابقہ حسابات میں توانائی کی منتقلی کو ایک خطی عمل تصور کیا گیا تھا۔
نئے حسابات کے مطابق ان غیر خطی اثرات کے نتیجے میں ڈارک فوٹونز کا عام فوٹونز میں تبدیل ہونے کا عمل اس وقت رک جاتا ہے جب توانائی کی صرف معمولی مقدار منتقل ہوتی ہے۔ یوں ابتدائی کائنات کے پلازما کو ضرورت سے زیادہ گرم ہونے سے روکا جاتا ہے۔
مزید پڑھیے: زمین پر آخری مکمل سورج گرہن، سائنسدانوں نے کائناتی نظارے کے خاتمے کے وقت کا تعین کردیا
تحقیق میں شامل میری لینڈ یونیورسٹی کے سائنس دان اینسن ہُک نے کہا کہ سابقہ پابندیوں کی بنیاد پر یہ سمجھا جا رہا تھا کہ ڈارک میٹر کی طاقت حقیقی طور پر ممکنہ طاقت سے ایک کروڑ گنا کم ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق نئی تحقیق نے ڈارک میٹر کی تلاش کے لیے بہت سے نئے امکانات پیدا کر دیے ہیں۔
یہ دریافت ان سائنسی حدود کو بھی دوبارہ قابل غور بنا دیتی ہے جنہیں سابقہ تحقیقات میں خارج کر دیا گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں ڈارک فوٹونز کی تلاش کے لیے ممکنہ دائرہ وسیع ہو گیا ہے اور طبیعیات کے تجربات میں ان فرضی ذرات کی تلاش کو نئی تحریک مل سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: ناسا کی نئی انقلابی دوربین: نئے سیاروں کی کھوج، کائنات کے پوشیدہ راز افشا ہونے کی توقع
پیریمیٹر انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ تحقیقاتی ٹیم کے رکن محمد شلابی کے مطابق اگر ابتدائی کائنات کے پلازما کا درست حساب لگایا جائے تو تجربات طبیعیات کے ایسے نئے پیرامیٹرز کا جائزہ لے سکیں گے جہاں ممکنہ طور پر ڈارک فوٹونز کو براہِ راست دریافت بھی کیا جا سکتا ہے۔














