برطانوی حکومت نے ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کے ساتھ مل کر طیاروں کے پیچھے بننے والی سفید لکیروں، جنہیں کنٹریلز (Contrails) کہا جاتا ہے، کے موسمیاتی اثرات کم کرنے کے لیے کام شروع کردیا۔
مزید پڑھیں:اسکردو کی قیمتی ٹراؤٹ مچھلی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی زد میں
کنٹریلز دراصل طیاروں کے انجن سے خارج ہونے والی گرم اور مرطوب گیس کے فضا کی انتہائی سرد تہوں سے ملنے کے نتیجے میں بننے والے برف کے ذرات ہیں۔ بعض حالات میں یہ لکیریں طویل عرصے تک فضا میں موجود رہ کر زمین کی حرارت کو روک سکتی ہیں اور یوں موسمیاتی تبدیلی پر اثرانداز ہوسکتی ہیں۔
Contrails account for roughly one-third of aviation’s total climate impact. We are making a major step in our work on mitigating aviation’s climate impact with the launch of Operation Blue Skies — the world’s first state-backed trial to avoid contrails at the scale of an entire… pic.twitter.com/T3klTjNeQU
— Yossi Matias (@ymatias) August 18, 2026
برطانوی حکومت اور گوگل کا تعاون مصنوعی ذہانت اور سیٹلائٹ ڈیٹا سمیت جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ایسے فضائی راستوں کی نشاندہی پر مرکوز ہے جہاں طیاروں کے کنٹریلز بننے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
منصوبے کا مقصد پائلٹس اور ایئر لائنز کو بہتر معلومات فراہم کرنا ہے تاکہ پرواز کے راستے میں معمولی تبدیلی کے ذریعے کنٹریلز بننے کے امکانات کم کیے جاسکیں، جبکہ ایندھن کے استعمال اور پرواز کے شیڈول پر کم سے کم اثر پڑے۔
مزید پڑھیں:پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کی وجہ سے بے بس ہیں، وزیراعظم شہباز شریف
برطانوی حکومت کے مطابق یہ اقدام ہوا بازی کے شعبے سے پیدا ہونے والے موسمیاتی اثرات کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے، تاہم ٹیکنالوجی کی افادیت اور بڑے پیمانے پر اس کے عملی استعمال کا جائزہ مزید تجربات کے بعد لیا جائے گا۔














