پمز میں فائر سیفٹی خامیوں کی نشاندہی، ڈاکٹرز اور عملے کو فائر سیفٹی ٹریننگ بھی نہ مل سکی

بدھ 26 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پمز اسپتال میں ڈاکٹرز اور عملے کو طویل عرصے سے فائر سیفٹی ٹریننگ نہیں دی گئی اور انہیں یہ بھی یاد نہیں کہ آخری مرتبہ باقاعدہ فائر ٹریننگ کب ہوئی تھی، فائر سیفٹی کے انتظامات سے متعلق خامیوں کی نشاندہی 2018 سے مسلسل کیے جانے کے باوجود مبینہ طور پر کئی اہم اقدامات تاحال مکمل نہ کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق اسپتال انتظامیہ کو متعدد بار فائر سیفٹی اور لائف سیفٹی آلات کی تنصیب، نظام کی مناسب دیکھ بھال، ماہر فائر سیفٹی عملے کی تعیناتی اور دیگر ضروری اقدامات مکمل کرنے کی ہدایات جاری کی جاتی رہیں، تاہم بار بار نوٹسز کے باوجود خامیاں دور نہ کیے جانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

مزید پڑھیں: طلال چوہدری کا پمز اسپتال کا دورہ: واقعے میں غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، وزیر مملکت داخلہ

پمز کی نرسری میں حالیہ آتشزدگی کے بعد اسپتال کے فائر سیفٹی انتظامات پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ذرائع کے مطابق فائر سیفٹی آڈٹس اور مختلف نوٹسز میں انتظامیہ کو آگاہ کیا جاتا رہا کہ اسپتال میں فائر سیفٹی اور لائف سیفٹی آلات کی تنصیب مکمل نہیں، جبکہ فائر سیفٹی نظام کی مناسب دیکھ بھال بھی نہیں ہورہی۔

پمز اسپتال کے سینیئر ڈاکٹر نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اسپتال کے عملے کو طویل عرصے سے فائر سیفٹی ٹریننگ نہیں دی گئی اور انہیں یہ بھی یاد نہیں کہ آخری مرتبہ باقاعدہ فائر ٹریننگ کب ہوئی تھی۔

سینیئر ڈاکٹر کے مطابق سرکاری و نجی اسپتالوں سمیت دیگر اداروں میں فائر سیفٹی ٹریننگ معمول کے مطابق کرائی جاتی ہے، جبکہ پمز میں عملے کو طویل عرصے سے ایسی تربیت فراہم نہیں کی گئی۔

ڈاکٹر نے بتایا کہ ان کے عزیز اور دوست ڈاکٹرز نجی اسپتالوں میں خدمات انجام دیتے ہیں، ان کے مطابق وہاں سال میں کم از کم دو مرتبہ فائر سیفٹی ٹریننگ اور ڈرلز کرائی جاتی ہیں۔

ان کے بقول بعض اوقات باقاعدہ سائرن بجا کر ایسی مشقیں کی جاتی ہیں کہ ابتدا میں عملے کو بھی معلوم نہیں ہوتا کہ واقعی آگ لگی ہے یا محض تربیتی مشق ہورہی ہے، تاہم پمز میں اس نوعیت کی باقاعدہ تربیت اور مشقیں نظر نہیں آتیں۔

سینیئر ڈاکٹر نے مزید کہاکہ پمز میں نہ صرف طویل عرصے سے فائر ٹریننگ نہیں ہوئی بلکہ عملے کو اس حوالے سے بھی کبھی آگاہی نہیں دی گئی کہ فائر ایمرجنسی کی صورت میں کیا اقدامات کرنے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پمز انتظامیہ کو اسپتال میں 24 گھنٹے ماہر فائر سیفٹی عملہ تعینات کرنے، فائر سیفٹی پلان تیار کرنے، ضروری این او سی حاصل کرنے اور فائر سیفٹی کمپلیشن سرٹیفکیٹ لینے کی ہدایات بھی جاری کی جاتی رہی ہیں۔

اس کے علاوہ عملے کو فائر سیفٹی اور عمارت خالی کرنے کی تربیت دینے سمیت فائر ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے باقاعدہ ڈرلز اور مشقیں کرانے کی بھی ہدایت کی گئی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 2024 کے نوٹس میں بھی پمز میں فائر سیفٹی اقدامات مکمل نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی اور متعلقہ انتظامیہ کو فائر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد کی ہدایت کرتے ہوئے ضروری اقدامات مقررہ مدت میں مکمل کرنے کا کہا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق بعض ہدایات میں فائر سیفٹی کے تمام ضروری اقدامات تین ماہ کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت بھی شامل تھی۔

فائر سیفٹی سے متعلق متعدد بار نشاندہی اور نوٹسز کے باوجود اگر اسپتال میں حفاظتی آلات، تربیت یافتہ عملہ اور باقاعدہ فائر ڈرلز کا نظام مؤثر طور پر موجود نہیں تو یہ صورتحال مریضوں، تیمارداروں اور اسپتال کے ملازمین کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پمز اسپتال میں آگ انتہائی تیزی سے پھیلی اور اس پر قابو پانا مشکل ہوگیا، وزیر صحت مصطفیٰ کمال

پمز میں حالیہ آتشزدگی کے واقعے کے بعد یہ سوال ایک بار پھر اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ 2018 سے فائر سیفٹی خامیوں کی نشاندہی اور بارہا ہدایات جاری ہونے کے باوجود اسپتال میں فائر سیفٹی انتظامات اور عملے کی تربیت مکمل کیوں نہ کی جا سکی؟

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مکہ دفاعی معاہدہ تاریخی دستاویز، سعودی ولی عہد پاکستان کے ساتھ آہنی دیوار کی طرح کھڑے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

رحمت للعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی کی ایک اور تحقیقی تصنیف نے قومی سطح پر نمایاں اعزاز حاصل کرلیا

نوجوانوں کو سیرت رسول ﷺ کی تعلیمات سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے، وزیر مذہبی امور سردار یوسف

‎پمز آتشزدگی: نومولود بچوں کو بچانے کے لیے کیا فائر سیفٹی پروٹوکول ہونا چاہیے تھا؟

سانحہ پمز کی تکلیف کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا، مریم نواز کا غمزدہ والدین سے اظہار رنج و غم

ویڈیو

مولانا فضل الرحمان اور عمران خان کے حامی اپوزیشن اتحاد قبول کریں گے؟ پشاور کے شہریوں کی رائے

پی ٹی آئی اپنے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے کوئی کوشش نہیں کر رہی، ایڈووکیٹ فیصل چوہدری

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ تہران، ایک بار پھر ایران امریکا مذاکرت شروع ہونے کے امکانات روشن

کالم / تجزیہ

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ

‘میں واپس آؤں گا’ سے تازہ ہونے والے دکھ

اِکّو اَلف تیرے دَرکار